اس طرح یاد آنے سے کیا فائدہ
مفت احساں جتانے سے کیا فائدہ
جس جگہ دل ہی جھکتا نہیں آپ کا
اس جگہ سر جھکانے سے کیا فائدہ
ختم کچھ دم میں ہو جائے گی روشنی
شمع کی لو بڑھانے سے کیا فائدہ
اس طرح یاد آنے سے کیا فائدہ
مفت احساں جتانے سے کیا فائدہ
جس جگہ دل ہی جھکتا نہیں آپ کا
اس جگہ سر جھکانے سے کیا فائدہ
ختم کچھ دم میں ہو جائے گی روشنی
شمع کی لو بڑھانے سے کیا فائدہ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
یہ مانتا ہوں وہ کربلا کا شہیدِ اعظم خدا نہیں ہے
بقا خدا کے لیے ہے لیکن حسینؑ کو بھی فنا نہیں ہے
بھرے ہیں شیر خدا کے جذبے جری کے دل میں لہو کی صورت
وفائے عباسؑ اور کیا ہے? اگر علیؑ کی دعا نہیں ہے
کبھی ہٹی تھی جو سر سے چادر تو مہر نے منہ چھپا لیا تھا
فلک کی بھی ہے عجیب گردش کسی کے سر پر ردا نہیں ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
جب بھی ہو جاتا ہے خالق کا کرم آپ سے آپ
منقبت ہوتی ہے مولا کی رقم آپ سے آپ
کیا کہیں تذکرہ کرب و بلا ہوتا ہے
کس لیے آنکھیں ہوتی ہیں مِری نم آپ سے آپ
نام حیدرؑ ہے مِرا جب کہا مولا نے میرے
لڑکھڑانے لگے مرحب کے قدم آپ سے آپ
جنون دل اگر آمادۂ اظہار ہو جائے
بہار آنے سے پہلے ہی چمن بیدار ہو جائے
خوشی کیسی خوشی سے واسطہ کیا غم پرستوں کو
مسلسل غم نہ ہو تو زندگی دشوار ہو جائے
ٹھہر اے برق! یہ دو چار تنکے جمع تو کر لوں
بس اتنی اور مہلت آشیاں تیار ہو جائے
آج آئے ہیں کل جانا ہے پھر عشق کو رُسوا کون کرے
دو روزہ دنیا ہے یہ، تو دنیا کی تمنا کون کرے
مجبور نہیں مختار سہی خودداری کو رُسوا کون کرے
جب موت ہی مانگے سے نہ ملی جینے کی تمنا کون کرے
اس لذتِ غم کا کیا کہنا، وہ یاد تو آتے رہتے ہیں
غم دینے والے کے صدقے اب غم کا مداوا کون کرے
مے گُلرنگ ہے اور جام ہے کیا عرض کروں
کتنی رنگیں یہ مِری شام ہے کیا عرض کروں
کل تہِ دام مجھے دیکھ کے خوش ہوتا تھا
آج صیّاد تہِ دام ہے کیا عرض کروں
بجلیاں میرے نشیمن کو جلا دیتی ہیں
میری محنت کا یہ انعام ہے کیا عرض کروں
دل جو وقفِ ستم ہو گیا
بے نیازِ کرم ہو گیا
حاجتِ چارہ گر اب نہیں
خود بخود درد کم ہو گیا
دل میں اب تم ہو ارماں نہیں
بت کدہ بھی حرم ہو گیا
کیسے سکون پاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
اب کیا غزل سناؤں تجھے دیکھنے کے بعد
آواز دے رہی ہے میری زندگی مجھے
جاؤں میں یا نہ جاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
کعبہ کا احترام بھی میری نظر میں ہے
سر کس طرف جھکاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
پھولوں کی رُت ہے ٹھنڈی ہوائیں
اب ان کی مرضی آئیں نہ آئیں
ان کی جفا، یا اپنی وفائیں
کیا یاد رکھیں کیا بھول جائیں
پھولوں میں رہ کر پھولوں میں بس کر
کانٹوں سے کیسے دامن بچائیں
کس تکلف کس اہتمام سے ہم
دل کو بہلا رہے ہیں شام سے ہم
مۓ چھلکتی ہے، رِند پیاسے ہیں
پھر بھی خوش ہیں اس انتظام سے ہم
جب بھی لیتا ہے کوئی نام تیرا
سر جھُکاتے ہیں احترام سے ہم
آج ان کے دامن پر اشک میرے ڈھلتے ہیں
غم کے تیز رو دھارے راستے بدلتے ہیں
آپ کے سہارے کی فکر ہو گی اوروں کو
ہم تو ٹھوکریں کھا کر خود بخود سنبھلتے ہیں
وقت بھی ہے میں بھی ہوں فیصلہ یہ کر لیجے
کس کے ساتھ چلنا تھا، کس کے ساتھ چلتے ہیں
مجھے ڈر ہے ہنستے ہنستے کہیں رو نہ دے زمانہ
جو بدل بدل کے عنواں میں کہوں وہی فسانہ
یہ بہار، یہ گھٹائیں، یہ شباب کا زمانہ
مجھے اب تو دیجے ناصح! نہ صلاحِ مخلصانہ
جو ہو جذب جذبِ کامل، جو ہو شوقِ والہانہ
تو ہے بندگی کو لازم نہ جبیں نہ آستانہ