Showing posts with label سعید شہیدی. Show all posts
Showing posts with label سعید شہیدی. Show all posts

Sunday, 24 September 2023

اس طرح یاد آنے سے کیا فائدہ

 اس طرح یاد آنے سے کیا فائدہ

مفت احساں جتانے سے کیا فائدہ

جس جگہ دل ہی جھکتا نہیں آپ کا

اس جگہ سر جھکانے سے کیا فائدہ

ختم کچھ دم میں ہو جائے گی روشنی

شمع کی لو بڑھانے سے کیا فائدہ

Friday, 28 July 2023

یہ مانتا ہوں وہ کربلا کا شہید اعظم خدا نہیں ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


یہ مانتا ہوں وہ کربلا کا شہیدِ اعظم خدا نہیں ہے

بقا خدا کے لیے ہے لیکن حسینؑ کو بھی فنا نہیں ہے

بھرے ہیں شیر خدا کے جذبے جری کے دل میں لہو کی صورت

وفائے عباسؑ اور کیا ہے? اگر علیؑ کی دعا نہیں ہے

کبھی ہٹی تھی جو سر سے چادر تو مہر نے منہ چھپا لیا تھا

فلک کی بھی ہے عجیب گردش کسی کے سر پر ردا نہیں ہے

جب بھی ہو جاتا ہے خالق کا کرم آپ سے آپ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


جب بھی ہو جاتا ہے خالق کا کرم آپ سے آپ

منقبت ہوتی ہے مولا کی رقم آپ سے آپ

کیا کہیں تذکرہ کرب و بلا ہوتا ہے

کس لیے آنکھیں ہوتی ہیں مِری نم آپ سے آپ

نام حیدرؑ ہے مِرا جب کہا مولا نے میرے

لڑکھڑانے لگے مرحب کے قدم آپ سے آپ

Tuesday, 11 October 2022

جنون دل اگر آمادۂ اظہار ہو جائے

 جنون دل اگر آمادۂ اظہار ہو جائے 

بہار آنے سے پہلے ہی چمن بیدار ہو جائے 

خوشی کیسی خوشی سے واسطہ کیا غم پرستوں کو 

مسلسل غم نہ ہو تو زندگی دشوار ہو جائے 

ٹھہر اے برق! یہ دو چار تنکے جمع تو کر لوں 

بس اتنی اور مہلت آشیاں تیار ہو جائے 

Thursday, 31 March 2022

آج آئے ہیں کل جانا ہے پھر عشق کو رسوا کون کرے

 آج آئے ہیں کل جانا ہے پھر عشق کو رُسوا کون کرے

دو روزہ دنیا ہے یہ، تو دنیا کی تمنا کون کرے

مجبور نہیں مختار سہی خودداری کو رُسوا کون کرے

جب موت ہی مانگے سے نہ ملی جینے کی تمنا کون کرے

اس لذتِ غم کا کیا کہنا، وہ یاد تو آتے رہتے ہیں

غم دینے والے کے صدقے اب غم کا مداوا کون کرے

Sunday, 30 May 2021

مے گل رنگ ہے اور جام ہے کیا عرض کروں

 مے گُلرنگ ہے اور جام ہے کیا عرض کروں

کتنی رنگیں یہ مِری شام ہے کیا عرض کروں

کل تہِ دام مجھے دیکھ کے خوش ہوتا تھا

آج صیّاد تہِ دام ہے کیا عرض کروں

بجلیاں میرے نشیمن کو جلا دیتی ہیں

میری محنت کا یہ انعام ہے کیا عرض کروں

Wednesday, 14 April 2021

دل جو وقف ستم ہو گیا

 دل جو وقفِ ستم ہو گیا

بے نیازِ کرم ہو گیا

حاجتِ چارہ گر اب نہیں

خود بخود درد کم ہو گیا

دل میں اب تم ہو ارماں نہیں

بت کدہ بھی حرم ہو گیا

Wednesday, 31 March 2021

کیسے سکون پاؤں تجھے دیکھنے کے بعد

 کیسے سکون پاؤں تجھے دیکھنے کے بعد

اب کیا غزل سناؤں تجھے دیکھنے کے بعد

آواز دے رہی ہے میری زندگی مجھے

جاؤں میں یا نہ جاؤں تجھے دیکھنے کے بعد

کعبہ کا احترام بھی میری نظر میں ہے

سر کس طرف جھکاؤں تجھے دیکھنے کے بعد

Saturday, 27 March 2021

پھولوں کی رت ہے ٹھنڈی ہوائیں

 پھولوں کی رُت ہے ٹھنڈی ہوائیں

اب ان کی مرضی آئیں نہ آئیں

ان کی جفا، یا اپنی وفائیں

کیا یاد رکھیں کیا بھول جائیں

پھولوں میں رہ کر پھولوں میں بس کر

کانٹوں سے کیسے دامن بچائیں

کس تکلف کس اہتمام سے ہم

 کس تکلف کس اہتمام سے ہم

دل کو بہلا رہے ہیں شام سے ہم

مۓ چھلکتی ہے، رِند پیاسے ہیں

پھر بھی خوش ہیں اس انتظام سے ہم

جب بھی لیتا ہے کوئی نام تیرا

سر جھُکاتے ہیں احترام سے ہم

آج ان کے دامن پر اشک میرے ڈھلتے ہیں

 آج ان کے دامن پر اشک میرے ڈھلتے ہیں

غم کے تیز رو دھارے راستے بدلتے ہیں

آپ کے سہارے کی فکر ہو گی اوروں کو

ہم تو ٹھوکریں کھا کر خود بخود سنبھلتے ہیں

وقت بھی ہے میں بھی ہوں فیصلہ یہ کر لیجے

کس کے ساتھ چلنا تھا، کس کے ساتھ چلتے ہیں

مجھے ڈر ہے ہنستے ہنستے کہیں رو نہ دے زمانہ

 مجھے ڈر ہے ہنستے ہنستے کہیں رو نہ دے زمانہ

جو بدل بدل کے عنواں میں کہوں وہی فسانہ

یہ بہار، یہ گھٹائیں، یہ شباب کا زمانہ

مجھے اب تو دیجے ناصح! نہ صلاحِ مخلصانہ

جو ہو جذب جذبِ کامل، جو ہو شوقِ والہانہ

تو ہے بندگی کو لازم نہ جبیں نہ آستانہ