Showing posts with label محسن چنگیزی. Show all posts
Showing posts with label محسن چنگیزی. Show all posts

Tuesday, 14 July 2020

کسی گم گشتہ محبت کی نشانی کے لیے

کسی گم گشتہ محبت کی نشانی کے لیے
شاخ پر پھول کھِلا یاد دہانی کے لیے
دل میں جو تھا وہ لکھا اس کے لیے کاغذ پر
بوسہ ہونٹوں پہ ہے پیغام زبانی کے لیے
عشق میں طے نہیں کرتے کوئی سودا لیکن
پھر بھی ارزاں ہوئے ہم تیری گرانی کے لیے

اندھوں میں بصارت کی سزا کاٹ رہے ہیں

کس کرب میں ہجرت کی سزا کاٹ رہے ہیں
مٹی سے "بغاوت" کی سزا کاٹ رہے ہیں
اب کہر میں لپٹا ہوا "سورج" ہے مقدر
شبزاد سے بیعت کی سزا کاٹ رہے ہیں
ہم دُھوپ میں اُڑتے ہوئے زخمی سے پرندے
پیڑوں سے بغاوت کی سزا کاٹ رہے ہیں

Sunday, 11 December 2016

يہی ملال ہے دریا کو اپنے پانی سے

يہی ملال ہے دریا کو اپنے پانی سے
کہ بہہ رہی ہے میری تشنگی روانی سے
میں اس کا ہاتھ کسی اور ہاتھ میں دے کر
بچا رہا ہوں محبت کو رائیگانی سے
تمہارے عشق نے سانسیں بحال رکھی ہے
لگاؤ کس کو تھا ورنہ جہانِ فانی سے

منشی تھے جس قدر بھی الحاج بن گئے ہیں

ایسی ویسی نظم

منشی تھے جس قدر بھی 
الحاج بن گئے ہیں 
دِیں سود پہ رکھا ہے 
ایمان کا خسارہ
جاری ہے ہر نفس میں 

نظم مکمل ہوتے ہوتے

نظم مکمل ہوتے ہوتے۔۔۔۔۔

کرچی کرچی
دل میں کوئی
درد بکھرنے لگتا ہے
آنکھوں کی آزاد فضا میں
خواب کے طائر
تِیروں سے بچ بچ کر 

Tuesday, 25 October 2016

اک نئے درد کا امکان بھی ہو سکتا ہے

اک نئے درد کا امکان بھی ہو سکتا ہے
دل تو خوشیوں سے پریشان بھی ہو سکتا ہے
ایک ہی ہاتھ میں پتھر بھی ہے آئینہ بھی 
اس تعلق میں تو نقصان بھی ہو سکتا ہے
یہ جو اک اشک لرزتا ہے مِری پلکوں پر 
سات دریاؤں کا عنوان بھی ہو سکتا ہے

سفر زاد سفر اور ہم سفر تبدیل کر کے

سفر، زادِ سفر اور ہم سفر تبدیل کر کے
بہت پچھتا رہا ہوں رہگزر تبدیل کر کے
تيری خواہش ہے اب کے اور نہ تيری آرزو ہے
پرندے جا چکے ہیں يہ شجر تبدیل کر کے 
سو لازم ہے غلط فہمی دلوں ميں اور بڑھ جائے 
کہ پہنچائی گئی ہے مجھ تک خبر تبدیل کر کے 

کوفۂ شب نے جو تعبیر کی حد جاری کی

کوفۂ شب نے جو تعبیر کی حد جاری کی
میں نے جلتے ہوئے خوابوں کی عزاداری کی
وقت نے اس کے مقدر میں لکھی تاریکی 
جس نے چڑھتے ہوئے سورج کی طرفداری کی
دل دھڑکنے پہ مصر تھا سو دھڑکتا ہی رہا 
لمحۂ دید نے آنکھوں کی نگہ داری کی

کسی قدیم تعلق کی ابتدا کی طرح

کسی قدیم تعلق کی ابتدا کی طرح
وه شخص ایک سمندر ہے میں ہوا کی طرح
یہ کس نگاه کی تقدیس کا خیال آیا 
کہ آ گئی ہے غزل ہونٹ پر دعا کی طرح
پلک سے روح تلک بهیگتا رہا شب بھر
کسی کی یاد برستی رہی گهٹا کی طرح

وقت کی چادر کے چھیدوں کو

وقت کی چادر کے چھیدوں کو
اپنی سانسوں کے دھاگے سے سِینے میں
پورے چھ دن لگ جاتے ہیں
کبھی کبھی انگلی میں چُبھ جاتی ہے
عمر کی سوئی تو خوں بہتا ہے
آخری دن مرہم پٹی میں کٹ جاتا ہے

Thursday, 29 October 2015

ترے فراق میں دل سے نکال کر دنیا

تِرے فراق میں دل سے نکال کر دنیا
چلا ہوں سِکے کی مانند اچھال کر دنیا
بڑھا لیا تِرے دامان کی طرف اک ہاتھ
اور ایک ہاتھ میں رکھی سنبھال کر دنیا
میں اپنے حجرے میں نان و نمک پہ قانع تھا
وہ چل دیا مِری جھولی میں ڈال کر دنیا

پرند بھرتے ہیں کیسے اڑان دیکھ تو لوں

پرند بھرتے ہیں کیسے اڑان دیکھ تو لوں
میں بند کھڑکی سے یہ آسمان دیکھ تو لوں
مخل ہوا ہے یہ کس کا وجودِ نا موجود
ہے کون تیرے مِرے درمیاں دیکھ تو لوں
ہے کون میرا خریدار، کون سوداگر؟
میں بِک رہا ہوں جہاں وہ دکان دیکھ تو لوں