وقت کی چادر کے چھیدوں کو
اپنی سانسوں کے دھاگے سے سِینے میں
پورے چھ دن لگ جاتے ہیں
کبھی کبھی انگلی میں چُبھ جاتی ہے
عمر کی سوئی تو خوں بہتا ہے
آخری دن مرہم پٹی میں کٹ جاتا ہے
تِرے فراق میں دل سے نکال کر دنیا
چلا ہوں سِکے کی مانند اچھال کر دنیا
بڑھا لیا تِرے دامان کی طرف اک ہاتھ
اور ایک ہاتھ میں رکھی سنبھال کر دنیا
میں اپنے حجرے میں نان و نمک پہ قانع تھا
وہ چل دیا مِری جھولی میں ڈال کر دنیا
پرند بھرتے ہیں کیسے اڑان دیکھ تو لوں
میں بند کھڑکی سے یہ آسمان دیکھ تو لوں
مخل ہوا ہے یہ کس کا وجودِ نا موجود
ہے کون تیرے مِرے درمیاں دیکھ تو لوں
ہے کون میرا خریدار، کون سوداگر؟
میں بِک رہا ہوں جہاں وہ دکان دیکھ تو لوں