Showing posts with label اعجاز رحمانی. Show all posts
Showing posts with label اعجاز رحمانی. Show all posts

Tuesday, 14 November 2023

شاہ امم کی ایک نظر نے کس کس پر احسان کیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


شاہِ اُممؐ کی ایک نظر نے کس کس پر احسان کیا

ذرے کو خورشید بنایا، قطرے کو طوفان کیا

ذہن کو مثبت سوچ عطا کی انساں کو ذیشان کیا

بندوں کو خالق سے ملایا، مشکل کو آسان کیا

اس کی نوازش بے پایاں ہے لوگو جس کی رحمت نے

صحرا کو گلزار بنایا، دھوپ کو سائبان کیا

Friday, 13 October 2023

سیرت کے معجزے وہ دکھائے رسول نے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سیرت کے معجزے وہ دِکھائے رسولﷺ نے

آتش کدے میں پُھول کھلائے رسولﷺ نے

کانٹے بُرائیوں کے ہٹائے رسولﷺ نے

اچھائیوں کے باغ لگائے رسولﷺ نے

دُنیا میں کتنے رنج اُٹھائے رسولﷺ نے

دریا بھی رحمتوں کے بہائے رسولﷺ نے

Thursday, 12 October 2023

ناداروں كو علم كے موتى آقا نے انمول دئیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ناداروں كو علم كے موتى آقاﷺ نے انمول دئیے

بابِ جہالت بند كيا اور ذہنوں کے در كھول دئیے

انگاروں كو پُھول بنايا،۔ ذروں كو خُورشيد كيا

جن ہونٹوں ميں زہر بھرا تھا ان كو ميٹھے بول دئیے

خشک پسينہ ہونے سے پہلے مزدورى مزدور كو دى

منگتوں كو محنت سکھلائى، اور پھنكوا كشكول دئیے

Tuesday, 10 October 2023

نہ بجھیں دیے عمل کے یہ دیار مصطفیٰ ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نہ بُجھیں دِیے عمل کے، یہ دیارِ مصطفیٰﷺ ہے

دلِ مضطرب سنبھل کے، یہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے

یہ ہجومِ جاں نثاران یوں ہی تا ابد رہے گا

یہاں رنگ ہیں ازل کے یہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے

کسی طور بھی جناں سے کوئی کم نہیں ہے گوشہ

کہیں بیٹھ جاؤ چل کے، یہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے

Monday, 25 September 2023

سرمایۂ افکار تھا رحمٰن کیانی

 ہدیۂ عقیدت (رحمٰن کیانی/عبدالرحمٰن کیانی)


سرمایۂ افکار تھا رحمٰن کیانی

شمشیر ضیا بار‘ تھا رحمٰن کیانی’

اس عہد میں بھی ’سیف و قلم‘ کا تھا وہ مالک

سچائی کا اظہار تھا رحمٰن کیانی

اقبال نے جس فکر کی رکھی تھی بنیاد

اس فکر سے سرشار تھا رحمٰن کیانی

Monday, 19 June 2023

کسی اور کے خدا سے نہ غرض نہ واسطہ ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کسی اور کے خدا سے نہ غرض نہ واسطہ ہے

ہے وہی خدا ہمارا جو حضورﷺ کا خدا ہے

یہ جو بزمِ آب و گِل ہے یہ تمام کربلا ہے

جہاں امن وآشتی ہے وہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے

یہ جو آدمی کا رتبہ ہے بلند قُدسیوں سے

کسی اور کا نہیں ہے یہ کرم حضورؐ کا ہے

Tuesday, 6 June 2023

ہر طرف تیرگی تھی نہ تھی روشنی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہر طرف تیرگی تھی نہ تھی روشنی

آپﷺ آئے تو سب کو ملی روشنی

بزمِ عالم سے رخصت ہوئی ظلمتیں

جب حِرا سے ہویدا ہوئی روشنی

چاند سورج کا انساں پرستار تھا

آپؐ سے قبل اندھیرا تھی روشنی

Saturday, 24 September 2022

ہر صاحب یقیں کا ایمان بن گئے ہیں

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہر صاحبِ یقیں کا ایمان بن گئے ہیں

قولِ نبیﷺ دلیلِ قرآن بن گئے ہیں

تعلیمِ مصطفیٰﷺ نے ایسا شعور بخشا

جو آدمی نہیں تھے، انسان بن گئے ہیں

آدم سے تا بہ عیسیٰ، عیسیٰ سے مصطفیٰؐ تک

اک داستان کے کتنے عنوان بن گئے ہیں

Friday, 23 September 2022

وہی ابد کے دیے ہیں وہی ازل کے چراغ

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


وہی ابد کے دِیے ہیں وہی ازل کے چراغ

جلائے ہیں مِرے آقاؐ نے جو عمل کے چراغ

ہمیں شعور مسلسل حیات کا دے کر

حضورؐ آپ نے گل کر دئیے اجل کے چراغ

جلے تو آپؐ کی سیرت کے ہی چراغ جلے

جلائے ہم نے بہت سے بدل بدل کے چراغ

Saturday, 10 September 2022

وہ ایک نام جو سرمایۂ حیات بھی ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


وہ ایک نام جو سرمایۂ حیات بھی ہے

وہ ایک ذات جو محبوبِ کائنات بھی ہے

ہر ایک رُخ سے ہے کامل حضورؐ کی سیرت

اجل کا ذکر بھی ہے زندگی کی بات بھی ہے

پہنچ سکا نہ کوئی اور مصطفیﷺ کے سوا

وہاں کہ ختم جہاں حدِّ کائنات بھی ہے

Saturday, 6 August 2022

درود پڑھ کے اگر کوئی ابتدا نہ کرے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


درود پڑھ کے اگر کوئی ابتداء نہ کرے

اسے یہ چاہیے پِھر ذکرِ مصطفیٰؐ نہ کرے

چراغِ حُبِ نبیﷺ کر کے دیکھیے روشن

مجال کیا ہے حفاظت جو پِھر ہوا نہ کرے

زبان وہ کسی مومن کی ہو نہیں سکتی

”خدا کا ذکر کرے ذکرِ مصطفیٰؐ نہ کرے“

Tuesday, 29 November 2016

اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا

اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا
سورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گا
فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے
خوشبو ہے اگر وہ، تو بکھرنا ہی پڑے گا
پڑتی ہے تو پڑ جاۓ شِکن اس کی جبِیں پر
سچائی کا اظہار تو کرنا ہی پڑے گا

کفن بدوش ہم اپنے گھروں میں رہتے ہیں

کفن بدوش ہم اپنے گھروں میں رہتے ہیں
بے قید زیست اور مقبروں میں رہتے ہیں
جنہیں قریب سے سورج نظر نہیں آتا
وہ کم نگاہ بھی دیدہ وروں میں رہتے ہیں
یہاں زمیں کے تاجر تو ہیں بہت سے مگر
وطن فروش بھی سوداگروں میں رہتے ہیں

راہبر سو گئے ہمسفر سو گئے

راہبر سو گئے، ہم سفر سو گئے 
کون جاگے گا ہم بھی اگر سو گئے
گیسوۓ وقت اب کون سلجھاۓ گا
بے خبر جاگ اٹھے، باخبر سو گئے 
یہ ہمارے مقدر کا اندھیر ہے
جب بھی نزدیک آئی سحر، سو گئے 

جسم پہ اپنے زخم سجانا سب کے بس کی بات نہیں

جسم پہ اپنے زخم سجانا سب کے بس کی بات نہیں
رت میں خزاں کی پھول کھلانا سب کے بس کی بات نہیں
خون سے اپنے دیپ جلانا سب کے بس کی بات نہیں
اپنے گھر کو آگ لگانا سب کے بس کی بات نہیں
یہ تو کام اسی کا ہے جو عشق کی آگ میں جل جائے
ذرے سے سورج بن جانا سب کے بس کی بات نہیں 

شعاع مہر سے خیرہ ہوئی نظر دیکھا

شعاعِ مہر سے خِیرہ ہوئی نظر دیکھا
نہ راس آیا ہمیں جلوۂ سحر، دیکھا 
خوشی سے غم کو کچھ اتنا قرِیب تر دیکھا 
جہاں تھی دھوپ وہیں سایۂ شجر دیکھا
جلا کے سوئے تھے اہلِ وفا، چراغِ وفا
کھلی جو آنکھ، اندھیرا شباب پر دیکھا

Wednesday, 6 May 2015

ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہے

ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہے
یہ کون ہے جو میرے گھر کے پاس رہتا ہے
یہ اور بات کہ ملتا نہیں کوئی اس سے
مگر وہ شخص سراپا سپاس رہتا ہے
جہاں پہ ڈوب گیا میری آس کا سورج
اسی جگہ وہ ستارہ شناس رہتا ہے

سر طور کوئی جائے اسے آپ کیا کہیں گے​

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

سرِ طُور کوئی جائے، اسے آپ کیا کہیں گے​
جسے خود خُدا بلائے، اسے آپ کیا کہیں گے​
جو ہوا کا رُخ بدل دے، ہمیں دعوتِ عمل دے​
جو شعور کو جگائے، اسے آپ کیا کہیں گے​
شب و روز دشمنوں کو جو دعاؤں سے نوازے​
جو ستم پہ مسکرائے، اسے آپ کیا کہیں گے​

Sunday, 16 November 2014

وہ آئینے کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے

وہ آئینے کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے
کسی کسی کو خدا یہ کمال دیتا ہے
عجیب شخص ہے ملتا ہے کچھ نہیں کہتا
جواب سب کو مگر حسبِ حال دیتا ہے
برائے نام بھی جس کو وفا نہیں آتی
وہ سب کو اپنی وفا کی مثال دیتا ہے

ہزار آرائشیں کیجئے مگر اچھا نہیں لگتا

ہزار آرائشیں کیجیے، مگر اچھا نہیں لگتا
جو دل وحشت بداماں ہو، تو گھراچھا نہیں لگتا
خوشی میں بھی نکل آتے ہیں اکثر آنکھ سے آنسو
یہ بے موقع مذاقِ چشمِ تر اچھا نہیں لگتا
نمائش جسم کی، بے پیرہن اچھی نہیں ہوتی
خزاں کے دور میں، کوئی شجر اچھا نہیں لگتا