Saturday, 10 September 2022

وہ ایک نام جو سرمایۂ حیات بھی ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


وہ ایک نام جو سرمایۂ حیات بھی ہے

وہ ایک ذات جو محبوبِ کائنات بھی ہے

ہر ایک رُخ سے ہے کامل حضورؐ کی سیرت

اجل کا ذکر بھی ہے زندگی کی بات بھی ہے

پہنچ سکا نہ کوئی اور مصطفیﷺ کے سوا

وہاں کہ ختم جہاں حدِّ کائنات بھی ہے

ہزار صبحیں تصدّق ہیں جس کی عظمت پر

تریؐ حیات میں شامل وہ ایک رات بھی ہے

نویدِ خلد یہاں ہر قدم پہ ملتی ہے

نبیﷺ کی راہگزر ہی رہِ نجات بِھی ہے

درِ رسولﷺ پہ سجدہ گزارنے والو

بجز خدا کوئی حلاّلِ مشکلات بھی ہے؟

عبث ہے خواب میں ارمانِ دیدِ شاہِ امم

دل و نگاہ میں ربطِ مواصلات بھی ہے

میں کس سے پوچھوں یہ اعجاز مصطفیٰؐ کے سوا

کہ میرا شعر کوئی وجہِ التفات بھی ہے


اعجاز رحمانی

No comments:

Post a Comment