Showing posts with label تجمل حسین زاہد. Show all posts
Showing posts with label تجمل حسین زاہد. Show all posts

Friday, 2 June 2023

یار تو بھی میرا ساتھ چھوڑے گا کیا

 یار تُو بھی میرا ساتھ چھوڑے گا کیا

ایک اکیلا چنا بھاڑ پھوڑے گا کیا

اپنے پُرکھوں کی کوئی نشانی تو رکھ

کچھ بنانا نہیں صرف گوڑے گا کیا

جب لچکدار تھی تُو نے موڑا نہیں

اب بڑھاپے میں لاٹھی کو توڑے گا کیا

Friday, 26 May 2023

دریا کھنگالنا مرا آسان کر گیا

 دریا کھنگالنا مِرا آسان کر گیا 

تہہ میں اتار کے مجھے خود ہی بھنور گیا

کیوں ہیں چراغ پر یہ ہوائیں چراغ پا 

لگتا ہے کوئی کان ہواؤں کے بھر گیا

دنیا کے اس سفر میں ضروری ہے ہمسفر 

ورنہ سمجھیۓ آپ کا لطفِ سفر گیا

Thursday, 11 May 2023

اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے

 اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے

جانتا ہوں یہ وقتی موسم ہے

پیار کی کونپلیں بھی پھوٹیں گی 

دل کی دھرتی اگر ذرا نم ہے

چاندنی میرے گھر نہیں آتی 

وقت کا کچھ مزاج برہم ہے

Wednesday, 10 May 2023

سر کٹوا لو عزت سے سردار میاں

 سر کٹوا لو عزت سے سردار میاں

جھکنے سے گر جاتی ہے دستار میاں

مرکز میں بھی بیٹھ کے رہتا ہے حد میں

دیکھا ہو گا تم نے بھی پرکار میاں

دھرتی چیر کے دیکھو، ہم ہی نکلیں گے

پھر بھی ہے الزام کہ ہیں غدار میاں

Tuesday, 1 November 2022

لاکھوں میں ایک ہے تو بڑی بے مثال ہے

لاکھوں میں ایک ہے تُو بڑی بے مثال ہے 

مہ تاب سے بھی کم کہاں تیرا جمال ہے

الجھا ہوا ہوں لفظوں کے میں تانے بانے میں 

یہ شعر بھی تو لفظوں کا پیچیدہ جال ہے

اپنی بلندی پر تجھے اتنا ہے ناز کیوں

ہر ایک کو یہاں پہ عروج و زوال ہے