یار تُو بھی میرا ساتھ چھوڑے گا کیا
ایک اکیلا چنا بھاڑ پھوڑے گا کیا
اپنے پُرکھوں کی کوئی نشانی تو رکھ
کچھ بنانا نہیں صرف گوڑے گا کیا
جب لچکدار تھی تُو نے موڑا نہیں
اب بڑھاپے میں لاٹھی کو توڑے گا کیا
یار تُو بھی میرا ساتھ چھوڑے گا کیا
ایک اکیلا چنا بھاڑ پھوڑے گا کیا
اپنے پُرکھوں کی کوئی نشانی تو رکھ
کچھ بنانا نہیں صرف گوڑے گا کیا
جب لچکدار تھی تُو نے موڑا نہیں
اب بڑھاپے میں لاٹھی کو توڑے گا کیا
دریا کھنگالنا مِرا آسان کر گیا
تہہ میں اتار کے مجھے خود ہی بھنور گیا
کیوں ہیں چراغ پر یہ ہوائیں چراغ پا
لگتا ہے کوئی کان ہواؤں کے بھر گیا
دنیا کے اس سفر میں ضروری ہے ہمسفر
ورنہ سمجھیۓ آپ کا لطفِ سفر گیا
اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے
جانتا ہوں یہ وقتی موسم ہے
پیار کی کونپلیں بھی پھوٹیں گی
دل کی دھرتی اگر ذرا نم ہے
چاندنی میرے گھر نہیں آتی
وقت کا کچھ مزاج برہم ہے
سر کٹوا لو عزت سے سردار میاں
جھکنے سے گر جاتی ہے دستار میاں
مرکز میں بھی بیٹھ کے رہتا ہے حد میں
دیکھا ہو گا تم نے بھی پرکار میاں
دھرتی چیر کے دیکھو، ہم ہی نکلیں گے
پھر بھی ہے الزام کہ ہیں غدار میاں
لاکھوں میں ایک ہے تُو بڑی بے مثال ہے
مہ تاب سے بھی کم کہاں تیرا جمال ہے
الجھا ہوا ہوں لفظوں کے میں تانے بانے میں
یہ شعر بھی تو لفظوں کا پیچیدہ جال ہے
اپنی بلندی پر تجھے اتنا ہے ناز کیوں
ہر ایک کو یہاں پہ عروج و زوال ہے