Showing posts with label اعجاز اسد. Show all posts
Showing posts with label اعجاز اسد. Show all posts

Sunday, 12 July 2026

کسی گھر کا بہت نقصان ہوتا ہے

 کسی گھر کا بہت نقصان ہوتا ہے

تو دولت مند کا سامان ہوتا ہے

درونِ دل اگر ایمان ہوتا ہے

تو پھر جینا بڑا آسان ہوتا ہے

ہتھیلی پر جو سر رکھے لڑائی میں

اسی کی جیت کا اِمکان ہوتا ہے

Saturday, 29 November 2025

دیوار تکلف ہے تو مسمار کرو نا

 دیوار تکلف ہے تو مسمار کرو نا 

گر اس سے محبت ہے تو اظہار کرو نا 

ممکن ہے تمہارے لیے ہو جاؤں میں آساں 

تم خود کو مرے واسطے دشوار کرو نا 

گر یاد کرو گے تو چلا آؤں گا اک دن 

تم دل کی گزر گاہ کو ہموار کرو نا 

Tuesday, 26 November 2024

غم وفا کو پس پشت ڈالنا ہو گا

 غمِ وفا کو پس پشت ڈالنا ہو گا

کھٹک رہا ہے جو کانٹا نکالنا ہو گا

فقیرِ عشق ہوں کچھ دے کے ٹالنا ہو گا

بس اک نگاہ کا سِکہ اچھالنا ہو گا

سوال دوستو! عظمت کا ہے سروں کا نہیں

ہمیں وقار کا پرچم سنبھالنا ہو گا

Saturday, 27 February 2021

چار سو انتشار ہے کیا ہے

 چار سُو انتشار ہے کیا ہے

یہ خزاں ہے بہار ہے کیا ہے

سب کو مشکوک تم سمجھتے ہو

خود پہ بھی اعتبار ہے کیا ہے

سوا نیزے پہ چاہیے سورج

جسم میں برف زار ہے کیا ہے