کسی گھر کا بہت نقصان ہوتا ہے
تو دولت مند کا سامان ہوتا ہے
درونِ دل اگر ایمان ہوتا ہے
تو پھر جینا بڑا آسان ہوتا ہے
ہتھیلی پر جو سر رکھے لڑائی میں
اسی کی جیت کا اِمکان ہوتا ہے
کسی گھر کا بہت نقصان ہوتا ہے
تو دولت مند کا سامان ہوتا ہے
درونِ دل اگر ایمان ہوتا ہے
تو پھر جینا بڑا آسان ہوتا ہے
ہتھیلی پر جو سر رکھے لڑائی میں
اسی کی جیت کا اِمکان ہوتا ہے
دیوار تکلف ہے تو مسمار کرو نا
گر اس سے محبت ہے تو اظہار کرو نا
ممکن ہے تمہارے لیے ہو جاؤں میں آساں
تم خود کو مرے واسطے دشوار کرو نا
گر یاد کرو گے تو چلا آؤں گا اک دن
تم دل کی گزر گاہ کو ہموار کرو نا
غمِ وفا کو پس پشت ڈالنا ہو گا
کھٹک رہا ہے جو کانٹا نکالنا ہو گا
فقیرِ عشق ہوں کچھ دے کے ٹالنا ہو گا
بس اک نگاہ کا سِکہ اچھالنا ہو گا
سوال دوستو! عظمت کا ہے سروں کا نہیں
ہمیں وقار کا پرچم سنبھالنا ہو گا
چار سُو انتشار ہے کیا ہے
یہ خزاں ہے بہار ہے کیا ہے
سب کو مشکوک تم سمجھتے ہو
خود پہ بھی اعتبار ہے کیا ہے
سوا نیزے پہ چاہیے سورج
جسم میں برف زار ہے کیا ہے