Showing posts with label باسط اوجینی. Show all posts
Showing posts with label باسط اوجینی. Show all posts

Sunday, 1 February 2026

یہ مصلحت اندیش کرم یاد رہے گا

 یہ مصلحت اندیش کرم یاد رہے گا

ساقی تری نظروں کا بھرم یاد رہے گا

غم یاد رہے گا نہ الم یاد رہے گا

اک حاصل غم ربط بہم یاد رہے گا

بتخانے کی عظمت کا پتہ جس سے ملا ہے

وہ حادثۂ دیر و حرم یاد رہے گا

Wednesday, 12 November 2025

بگڑی کو بنا لینا تو مشکل نہیں ہوتا

 احساس غم عشق کا حاصل نہیں ہوتا

وہ درد کے جو روح میں شامل نہیں ہوتا

اے ذوق نظر بھول بھی جا ذوق نظر کو

افسانہ کبھی زیست کا حاصل نہیں ہوتا

اے دوست وفا ساز محبت کی نظر میں

بگڑی کو بنا لینا تو مشکل نہیں ہوتا

Monday, 11 August 2025

روداد غم کی جب سے شہرت سی ہو گئی ہے

روداد غم کی جب سے شہرت سی ہو گئی ہے

رنگینئ جہاں سے وحشت سی ہو گئی ہے

تیور بتا رہے ہیں انداز بے رخی کے

ان کو جفا سے شاید رغبت سی ہو گئی ہے

ناحق اٹھا رہے ہو طوفاں تجلیوں کے

ذوق نظر کو میرے غفلت سی ہو گئی ہے

Sunday, 15 June 2025

تجھے جاوداں بنا دے وہ ارم قبول کر لے

 تجھے جاِداں بنا دے وہ اِرم قبول کر لے

مِرا مشورہ ہے تجھ کو کوئی غم قبول کر لے

بہ کمالِ عزمِ راسخ تُو سِتم قبول کر لے

کبھی دار تک گئے تھے وہ قدم قبول کر لے

کئی اور تشنہ لب ہیں تِری انجمن میں ساقی

میں وہ بُوالہوس نہیں ہوں جو کرم قبول کر لے