یہ مصلحت اندیش کرم یاد رہے گا
ساقی تری نظروں کا بھرم یاد رہے گا
غم یاد رہے گا نہ الم یاد رہے گا
اک حاصل غم ربط بہم یاد رہے گا
بتخانے کی عظمت کا پتہ جس سے ملا ہے
وہ حادثۂ دیر و حرم یاد رہے گا
یہ مصلحت اندیش کرم یاد رہے گا
ساقی تری نظروں کا بھرم یاد رہے گا
غم یاد رہے گا نہ الم یاد رہے گا
اک حاصل غم ربط بہم یاد رہے گا
بتخانے کی عظمت کا پتہ جس سے ملا ہے
وہ حادثۂ دیر و حرم یاد رہے گا
احساس غم عشق کا حاصل نہیں ہوتا
وہ درد کے جو روح میں شامل نہیں ہوتا
اے ذوق نظر بھول بھی جا ذوق نظر کو
افسانہ کبھی زیست کا حاصل نہیں ہوتا
اے دوست وفا ساز محبت کی نظر میں
بگڑی کو بنا لینا تو مشکل نہیں ہوتا
روداد غم کی جب سے شہرت سی ہو گئی ہے
رنگینئ جہاں سے وحشت سی ہو گئی ہے
تیور بتا رہے ہیں انداز بے رخی کے
ان کو جفا سے شاید رغبت سی ہو گئی ہے
ناحق اٹھا رہے ہو طوفاں تجلیوں کے
ذوق نظر کو میرے غفلت سی ہو گئی ہے
تجھے جاِداں بنا دے وہ اِرم قبول کر لے
مِرا مشورہ ہے تجھ کو کوئی غم قبول کر لے
بہ کمالِ عزمِ راسخ تُو سِتم قبول کر لے
کبھی دار تک گئے تھے وہ قدم قبول کر لے
کئی اور تشنہ لب ہیں تِری انجمن میں ساقی
میں وہ بُوالہوس نہیں ہوں جو کرم قبول کر لے