حکم ہے اُس کا کہ سچ ہر بات کہنا چاہیے
رات کو دن اور دن کو رات کہنا چاہیے
یہ جو دریا بہہ رہا ہے شور اس کا وصف ہے
دل کا دریا خاموشی کے سات بہنا چاہیے
یوں بھی دینا چاہیے اُن کے سوالوں کے جواب
کچھ خیالِ خاطرِ جذبات رہنا چاہیے
حکم ہے اُس کا کہ سچ ہر بات کہنا چاہیے
رات کو دن اور دن کو رات کہنا چاہیے
یہ جو دریا بہہ رہا ہے شور اس کا وصف ہے
دل کا دریا خاموشی کے سات بہنا چاہیے
یوں بھی دینا چاہیے اُن کے سوالوں کے جواب
کچھ خیالِ خاطرِ جذبات رہنا چاہیے
آرزُو تھی کہ کبھی اُن کے رُوبرُو ہوتے
اک عُمر گُزرے گی تکمیلِ آرزو ہوتے
ہمارے اشکِ ندامت🥹 لہُو لہُو ہوتے
ہم بھی گُلشن میں گُلوں جیسے سرخرُو ہوتے
ان سے باتیں تو خیالوں میں ہُوا کرتی ہیں
کاش ہم خُود سے کبھی محوِ گُفتگو ہوتے
بابا دُور چلے گئے
ریل کی آہنی پہیوں میں
اک جُنبش ہوئی
دھیرے دھیرے بڑھی رفتار اس کی
پہلے درجے کے
ایک ڈبے میں
ایک تنہا مسافر
کوئی خُود سے سوا نہیں ہوتا
بندہ ہرگز خُدا نہیں ہوتا
دل ہمارا ہے یا تمہارا اب
ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوتا
جانے والا اگر نہیں آتا
خانۂ دل سجا نہیں ہوتا