Showing posts with label رخسار امروہوی. Show all posts
Showing posts with label رخسار امروہوی. Show all posts

Tuesday, 29 September 2026

حکم ہے اس کا کہ سچ ہر بات کہنا چاہیے

 حکم ہے اُس کا کہ سچ ہر بات کہنا چاہیے

رات کو دن اور دن کو رات کہنا چاہیے

یہ جو دریا بہہ رہا ہے شور اس کا وصف ہے

دل کا دریا خاموشی کے سات بہنا چاہیے

یوں بھی دینا چاہیے اُن کے سوالوں کے جواب

کچھ خیالِ خاطرِ جذبات رہنا چاہیے

Monday, 28 September 2026

آرزو تھی کہ کبھی ان کے روبرو ہوتے

 آرزُو تھی کہ کبھی اُن کے رُوبرُو ہوتے

اک عُمر گُزرے گی تکمیلِ آرزو ہوتے

ہمارے اشکِ ندامت🥹 لہُو لہُو ہوتے

ہم بھی گُلشن میں گُلوں جیسے سرخرُو ہوتے

ان سے باتیں تو خیالوں میں ہُوا کرتی ہیں

کاش ہم خُود سے کبھی محوِ گُفتگو ہوتے

Wednesday, 14 July 2021

خدا حافظ مرے بابا خدا حافظ

بابا دُور چلے گئے


ریل کی آہنی پہیوں میں

اک جُنبش ہوئی

دھیرے دھیرے بڑھی رفتار اس کی

پہلے درجے کے

ایک ڈبے میں

ایک تنہا مسافر

Friday, 14 May 2021

بندہ ہرگز خدا نہیں ہوتا

کوئی خُود سے سوا نہیں ہوتا

بندہ ہرگز خُدا نہیں ہوتا

دل ہمارا ہے یا تمہارا اب

ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوتا

جانے والا اگر نہیں آتا

خانۂ دل سجا نہیں ہوتا