کہیں صبح و شام کے درمیاں کہیں ماہ و سال کے درمیاں
یہ مِرے وجود کی سلطنت ہے عجب زوال کے درمیاں
ابھی صحنِ جاں میں بِچھی ہوئی جو بہار ہے اسے کیا کہوں
میں کسی عتاب کی زد میں ہوں تو کسی ملال کے درمیاں
ہیں کسی اِشارے کے مُنتظر کئی شہ سوار کھڑے ہوئے
کہ ہو گرم پھر کوئی معرکہ مِرے ضبطِ حال کے درمیاں
نہیں ترجمان بیاں کوئی جو ہے پردہ دار سکوت ہے
ہیں یہ داغ داغ عبارتیں بڑے احتمال کے درمیاں
یہاں ذرہ ذرہ ہے دیدہ ور نہیں ذرہ بھر کوئی بے خبر
کسی کم نظر کو پڑی ہے کیا پڑے کیوں سوال کے درمیاں
نہ رہا دُھواں نہ ہے کوئی بولو اب آ گئے وہ سُراغ جو
ہے ہر اک نِگاہِ گُریز خُو پس اشتعال کے درمیاں
تھے جو پر کُشا ہیں زبُوں زبُوں تھے جو سر بکف ہوئے سرنِگوں
کہیں کھو گئے دروں دروں یہ کس اندر جال کے درمیاں
لگی ضرب ایسی ہے برمحل کہ یہ مرحلہ بھی ہے جاں گُسل
ہُوئے زخم پھر سے لہُو لہُو تھے جو اِندمال کے درمیاں
کبھی شِکوہ زن، کبھی نُکتہ چیں، کبھی باغیوں کا حمایتی
یہ خلِش! ہے کون؟ کہو اسے، رہے اِعتدال کے درمیاں
بدر عالم خلش
No comments:
Post a Comment