Tuesday, 3 November 2026

غم خیالوں میں پال رکھے ہیں

 غم خیالوں میں پال رکھے ہیں 

اور لبوں پر سوال رکھے ہیں

کاسۂ دل میں اور نہیں ہے کچھ 

زخم کتنے سنبھال رکھے ہیں

ہم خیالوں کی یہ شکایت ہے

درد سارے نِڈھال رکھے ہیں

سب دلیلوں کا یہ خلاصہ ہے

غم بھی اپنا جمال رکھے ہیں

کر رہا ہوں شُمار زخموں کا 

سانپ ہم نے بھی پال رکھے ہیں

شہر کے سب چنار اب صاحب

موسموں کا خیال رکھے ہیں

تم نہ جانو مِری غزل کے زخم 

دل میں اپنے گُلال رکھے ہیں


یونس ڈار

No comments:

Post a Comment