غم خیالوں میں پال رکھے ہیں
اور لبوں پر سوال رکھے ہیں
کاسۂ دل میں اور نہیں ہے کچھ
زخم کتنے سنبھال رکھے ہیں
ہم خیالوں کی یہ شکایت ہے
درد سارے نِڈھال رکھے ہیں
سب دلیلوں کا یہ خلاصہ ہے
غم بھی اپنا جمال رکھے ہیں
کر رہا ہوں شُمار زخموں کا
سانپ ہم نے بھی پال رکھے ہیں
شہر کے سب چنار اب صاحب
موسموں کا خیال رکھے ہیں
تم نہ جانو مِری غزل کے زخم
دل میں اپنے گُلال رکھے ہیں
یونس ڈار
No comments:
Post a Comment