Showing posts with label پیغام آفاقی. Show all posts
Showing posts with label پیغام آفاقی. Show all posts

Tuesday, 18 February 2025

کیسے کھینچوں تری تصویر تو گم ہے اب تک

 منزل کے نام


کیسے کھینچوں تِری تصویر تو گُم ہے اب تک 

تجھ کو اے جان جہاں میں نے تو دیکھا بھی نہیں 

جب کبھی ابرِ شبِ مہ میں اُڑا جاتا ہے 

آبشاروں سے صدا آتی ہے چھن چھن کے کہیں 

یا کبھی شام کی تاریکی میں تنہائی میں 

جب کبھی جلوہ جھلکتا ہے تِری یادوں کا 

Thursday, 7 November 2024

زمیں پہلے ایسی کبھی بھی نہ تھی

 کہاں جا رہا ہوں


زمیں پہلے ایسی کبھی بھی نہ تھی

پاؤں مٹی پہ ہوتے تھے

نظریں افق پر

ہمیں اپنے بارے میں معلوم ہوتا تھا

ہم کون ہیں

اور کیا کر رہے ہیں

Wednesday, 11 September 2024

خواب تعبیر کے اسیر نہ تھے

 خواب تعبیر کے اسیر نہ تھے 

رہگزر تھے یہ راہگیر نہ تھے

رہنما تھے کبھی وہ سچ ہے مگر 

یہ بھی سچ ہے کہ میرے پیر نہ تھے

ہم نے زنداں کی باغبانی کی 

موسم گل کے ہم اسیر نہ تھے

Thursday, 5 September 2024

زخموں کے انبار در و دیوار بھی سونے لگتے ہیں

 رُوح اذیّت خُوردہ


زخموں کے انبار، در و دیوار بھی

سُونے لگتے ہیں

خُوشیوں کے دریا میں اتنی چوٹ لگی

کہ اب اس میں چلتے رہنا دُشوار ہوا

سڑکوں پر چلتے پھرتے شاداب سے چہرے سُوکھ گئے

وہ موسم جس کو آنا تھا، وہ آ بھی گیا