منزل کے نام
کیسے کھینچوں تِری تصویر تو گُم ہے اب تک
تجھ کو اے جان جہاں میں نے تو دیکھا بھی نہیں
جب کبھی ابرِ شبِ مہ میں اُڑا جاتا ہے
آبشاروں سے صدا آتی ہے چھن چھن کے کہیں
یا کبھی شام کی تاریکی میں تنہائی میں
جب کبھی جلوہ جھلکتا ہے تِری یادوں کا
منزل کے نام
کیسے کھینچوں تِری تصویر تو گُم ہے اب تک
تجھ کو اے جان جہاں میں نے تو دیکھا بھی نہیں
جب کبھی ابرِ شبِ مہ میں اُڑا جاتا ہے
آبشاروں سے صدا آتی ہے چھن چھن کے کہیں
یا کبھی شام کی تاریکی میں تنہائی میں
جب کبھی جلوہ جھلکتا ہے تِری یادوں کا
کہاں جا رہا ہوں
زمیں پہلے ایسی کبھی بھی نہ تھی
پاؤں مٹی پہ ہوتے تھے
نظریں افق پر
ہمیں اپنے بارے میں معلوم ہوتا تھا
ہم کون ہیں
اور کیا کر رہے ہیں
خواب تعبیر کے اسیر نہ تھے
رہگزر تھے یہ راہگیر نہ تھے
رہنما تھے کبھی وہ سچ ہے مگر
یہ بھی سچ ہے کہ میرے پیر نہ تھے
ہم نے زنداں کی باغبانی کی
موسم گل کے ہم اسیر نہ تھے
رُوح اذیّت خُوردہ
زخموں کے انبار، در و دیوار بھی
سُونے لگتے ہیں
خُوشیوں کے دریا میں اتنی چوٹ لگی
کہ اب اس میں چلتے رہنا دُشوار ہوا
سڑکوں پر چلتے پھرتے شاداب سے چہرے سُوکھ گئے
وہ موسم جس کو آنا تھا، وہ آ بھی گیا