Showing posts with label نگار صہبائی. Show all posts
Showing posts with label نگار صہبائی. Show all posts

Wednesday, 2 February 2022

من کا سورج کب چمکے گا کتنی دور سویرا ہے

 من کا سورج کب چمکے گا کتنی دور سویرا ہے

چنتا بن میں گھور اندھیرا پنچھی بہت اکیلا ہے

بادل کے پردے میں چھپ کر جس نے امرت چھڑکا ہے

ساون کی مہندی سے لکھ کر روپ سندیسہ بھیجا ہے

بند کواڑے کھل جاتے ہیں ایسا گیت بھی آتا ہے

میلے کپڑوں میں کیا ملنا سوچ کے من شرماتا ہے

Monday, 26 April 2021

آندھی کو گلی میں جگ بیتا

 آندھی کو گلی میں جگ بیتا

وہ دیپک آج بھی جلتا ہے

نکلے تھے گھر سے شام ڈھلے

ہم پل سے گُگ کی اور چلے

جو پھول کھلے تھے رستوں میں

لگتے ہیں بھلے گلدستوں میں

Monday, 19 April 2021

جاتی رت نے سندیسہ دیا ہے

 جاتی رُت نے سندیسہ دیا ہے

دیکھ سورج سے دیپک بڑا ہے

دونوں پلڑے برابر بھرے ہیں

چاند سورج سفر کر رہے ہیں

تُو نے موسم بنا تو دئیے ہیں

جنگلوں کے عجب راستے ہیں

Friday, 16 April 2021

موہے اپنی لگن کے بندھن نے کچھ ایسا باندھا جیون بھر

 گیت


موہے اپنی لگن کے بندھن نے کچھ ایسا باندھا جیون بھر

کبھی کھول کواڑ نہ دیکھ سکے مِرے نین کہ سرسوں پھول رہی


من پوجا میں مِری دیوی نے خود میرے سیس نوائے ہیں

رکھ نین کنول مِرے چرنوں میں موہے سندر تلک لگائے ہیں

موہے ساگر کہہ کے پکارا ہے خود ندیا بن کے اتر گئی

کبھی کھول کواڑ نہ دیکھ سکے مِرے نین کہ سرسوں پھول رہی

Thursday, 15 April 2021

مہندی سے لکھ دو ری ہاتھوں پہ سکھیو میرے سانوریا کا نام

گیت


مہندی سے لکھ دو ری

ہاتھوں پہ سکھیو

میرے سانوریا کا نام

کتنا سہانا سمے ہے ملن کا

مجھ کو سنورنے سے کام

جاتی رت نے سندیسہ دیا ہے

 جاتی رُت نے سندیسہ دیا ہے

دیکھ سورج سے دیپک بڑا ہے

دونوں پلڑے برابر بھرے ہیں

چاند سورج سفر کر رہے ہیں

تُو نے موسم بنا تو دئیے ہیں

جنگلوں کے عجب راستے ہیں