من کا سورج کب چمکے گا کتنی دور سویرا ہے
چنتا بن میں گھور اندھیرا پنچھی بہت اکیلا ہے
بادل کے پردے میں چھپ کر جس نے امرت چھڑکا ہے
ساون کی مہندی سے لکھ کر روپ سندیسہ بھیجا ہے
بند کواڑے کھل جاتے ہیں ایسا گیت بھی آتا ہے
میلے کپڑوں میں کیا ملنا سوچ کے من شرماتا ہے