پہلے پیمانے چھلکاؤ، پھر کوئی رنگین غزل
آنکھوں کو مےخانہ بناؤ، پھر کوئی رنگین غزل
یوں تو دن بھر ایسی ویسی باتیں ہوتی رہتی ہیں
کوئی اچھا شعر سناؤ، پھر کوئی رنگین غزل
میں آخر کیا بات کروں ان بوجھل بوجھل لمحوں میں
تم اک دن فرصت میں آؤ، پھر کوئی رنگین غزل