Showing posts with label مظفر رزمی. Show all posts
Showing posts with label مظفر رزمی. Show all posts

Sunday, 15 August 2021

پہلے پیمانے چھلکاؤ پھر کوئی رنگین غزل

 پہلے پیمانے چھلکاؤ، پھر کوئی رنگین غزل

آنکھوں کو مےخانہ بناؤ، پھر کوئی رنگین غزل

یوں تو دن بھر ایسی ویسی باتیں ہوتی رہتی ہیں

کوئی اچھا شعر سناؤ، پھر کوئی رنگین غزل

میں آخر کیا بات کروں ان بوجھل بوجھل لمحوں میں

تم اک دن فرصت میں آؤ، پھر کوئی رنگین غزل

Thursday, 1 July 2021

شام غم ہے تری یادوں کو سجا رکھا ہے

شامِ غم ہے تِری یادوں کو سجا رکھا ہے

میں نے دانستہ چراغوں کو بجھا رکھا ہے

اور کیا دوں میں گلستاں سے محبت کا ثبوت

میں نے کانٹوں کو بھی پلکوں پہ سجا رکھا ہے

جانے کیوں برق کو اس سمت توجہ ہی نہیں

میں نے ہر طرح نشیمن کو سجا رکھا ہے

Sunday, 29 November 2020

کوئی سوغات وفا دے کے چلا جاؤں گا

 کوئی سوغاتِ وفا دے کے چلا جاؤں گا

تجھ کو جینے کی ادا دے کے چلا جاؤں گا

میرے دامن میں اگر کچھ نہ رہے گا باقی

اگلی نسلوں کو دعا دے کے چلا جاؤں گا

تیری راہوں میں مرے بعد نہ جانے کیا ہو

میں تو نقشِ کفِ پا دے کے چلا جاؤں گا

Saturday, 28 November 2020

مقابلے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں

 مقابلے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں

یہ ولولے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں

قریب آؤ تو شاید سمجھ میں آ جائے

کہ فاصلے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں

ہے میرے ساتھ مرے دشمنوں سے ربط انہیں

یہ سلسلے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں

ایسا منظر کبھی تو پاؤں میں

 ایسا منظر کبھی تو پاؤں میں

وہ سنبھل جائیں لڑکھڑاؤں میں

ڈوبنا ہی اگر مقدر ہے

تیری آنکھوں میں ڈوب جاؤں میں

کیا کہا، تم کو بھول کر دیکھوں

اس سے بہتر ہے مر نہ جاؤں میں

Sunday, 23 February 2020

خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گا

 خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گا

ورنہ خوددار مسافر ہوں، گزر جاؤں گا

آندھیوں کا مجھے کیا خوف میں پتھر ٹھہرا

ریت کا ڈھیر نہیں ہوں جو بکھر جاؤں گا

زندگی اپنی کتابوں میں چھپا لے، ورنہ

تیرے اوراق کے مانند بکھر جاؤں گا

اس راز کو کیا جانیں ساحل کے تماشائی

 اس راز کو کیا جانیں ساحل کے تماشائی

ہم ڈوب کے سمجھے ہیں دریا! تِری گہرائی

جاگ اے مِرے ہمسایہ خوابوں کے تسلسل سے

دیوار سے آنگن میں اب دھوپ اتر آئی

چلتے ہوئے بادل کے سائے کے تعاقب میں

یہ تشنہ لبی مجھ کو صحراؤں میں لے آئی

ناکامی قسمت کا گلہ چھوڑ دیا ہے

 ناکامئ قسمت کا گِلہ چھوڑ دیا ہے

تدبیر سے تقدیر کا رخ موڑ دیا ہے

وہ جرم بھی اک عظمتِ کردار ہے جس نے

ٹوٹا ہوا اک رشتۂ دل جوڑ دیا ہے

دل ڈوب چلا آخرِ شب خشک ہیں آنکھیں

آ جا، کہ ستاروں نے بھی دم توڑ دیا ہے