وفا، اخلاص، ممتا، بھائی چارہ چھوڑ دیتا ہے
ترقی کے لیے انسان کیا کیا چھوڑ دیتا ہے
تڑپنے کے لیے دن بھر کو پیاسا چھوڑ دیتا ہے
اذاں ہوتے ہی وہ قصہ ادھورا چھوڑ دیتا ہے
سفر میں زندگی کے لوگ ملتے ہیں بچھڑتے ہیں
کسی کے واسطے کیا کوئی جینا چھوڑ دیتا ہے
وفا، اخلاص، ممتا، بھائی چارہ چھوڑ دیتا ہے
ترقی کے لیے انسان کیا کیا چھوڑ دیتا ہے
تڑپنے کے لیے دن بھر کو پیاسا چھوڑ دیتا ہے
اذاں ہوتے ہی وہ قصہ ادھورا چھوڑ دیتا ہے
سفر میں زندگی کے لوگ ملتے ہیں بچھڑتے ہیں
کسی کے واسطے کیا کوئی جینا چھوڑ دیتا ہے
نبھائے ہم نے مراسم یوں بد زبان کے ساتھ
کہ جیسے رہتا ہے آئینہ اک چٹان کے ساتھ
زمیں بھی کرنے لگی اب دعا کسان کے ساتھ
کہ دریا بہنے لگا خطرے کے نشان کے ساتھ
ہے تیرے ہاتھ میں اب لاج اُس کی ربِ کریم
پرندہ شرط لگا بیٹھا آسمان کے ساتھ
جو بن سنور کے وہ اک ماہ رُو نکلتا ہے
تو ہر زبان سے بس اللہ ہُو نکلتا ہے
حلال رزق کا مطلب کسان سے پوچھو
پسینہ بن کے بدن سے لہو نکلتا ہے
زمین اور مقدر کی ایک ہے فطرت
کہ جو بھی بویا وہی ہو بہو نکلتا ہے
اپنا شعور اپنی انا کھو چکے ہیں ہم
اب جاگنا پڑے گا بہت سو چکے ہیں ہم
اب کون بڑھ کے ہم کو گلے سے لگائے گا
کانٹے تو اپنے چاروں طرف بو چکے ہیں ہم
احساسِ کمتری کا ہوئے ہیں شکار یوں
اب احتجاج تک کا ہنر کھو چکے ہیں ہم
ہم جو اک پل کو کسی غیر کے شانے لگ جائیں
تو میری جان تیرے ہوش ٹھکانے لگ جائیں
ہم تِرے چاہنے والے ہیں، تجھے یاد رہے
جانے کب کوچے میں ہم خاک اُڑانے لگ جائیں
اس سے کہنا کہ نگاہیں بھی نہیں اٹھ سکتیں
ہم جو اپنے کبھی احسان گنانے لگ جائیں