Showing posts with label عادل رشید. Show all posts
Showing posts with label عادل رشید. Show all posts

Tuesday, 27 April 2021

وفا اخلاص ممتا بھائی چارہ چھوڑ دیتا ہے

 وفا، اخلاص، ممتا، بھائی چارہ چھوڑ دیتا ہے

ترقی کے لیے انسان کیا کیا چھوڑ دیتا ہے

تڑپنے کے لیے دن بھر کو پیاسا چھوڑ دیتا ہے

اذاں ہوتے ہی وہ قصہ ادھورا چھوڑ دیتا ہے

سفر میں زندگی کے لوگ ملتے ہیں بچھڑتے ہیں

کسی کے واسطے کیا کوئی جینا چھوڑ دیتا ہے

Thursday, 22 April 2021

نبھائے ہم نے مراسم یوں بدزبان کے ساتھ

 نبھائے ہم نے مراسم یوں بد زبان کے ساتھ 

کہ جیسے رہتا ہے آئینہ اک چٹان کے ساتھ

زمیں بھی کرنے لگی اب دعا کسان کے ساتھ 

کہ دریا بہنے لگا خطرے کے نشان کے ساتھ

ہے تیرے ہاتھ میں اب لاج اُس کی ربِ کریم 

پرندہ شرط لگا بیٹھا آسمان کے ساتھ

Tuesday, 20 April 2021

جو بن سنور کے وہ اک ماہ رو نکلتا ہے

 جو بن سنور کے وہ اک ماہ رُو نکلتا ہے

تو ہر زبان سے بس اللہ ہُو نکلتا ہے

حلال رزق کا مطلب کسان سے پوچھو

پسینہ بن کے بدن سے لہو نکلتا ہے

زمین اور مقدر کی ایک ہے فطرت

کہ جو بھی بویا وہی ہو بہو نکلتا ہے

اپنا شعور اپنی انا کھو چکے ہیں ہم

 اپنا شعور اپنی انا کھو چکے ہیں ہم

اب جاگنا پڑے گا بہت سو چکے ہیں ہم

اب کون بڑھ کے ہم کو گلے سے لگائے گا

کانٹے تو اپنے چاروں طرف بو چکے ہیں ہم

احساسِ کمتری کا ہوئے ہیں شکار یوں

اب احتجاج تک کا ہنر کھو چکے ہیں ہم

Friday, 8 January 2021

ہم جو اک پل کو کسی غیر کے شانے لگ جائیں

 ہم جو اک پل کو کسی غیر کے شانے لگ جائیں

تو میری جان تیرے ہوش ٹھکانے لگ جائیں

ہم تِرے چاہنے والے ہیں، تجھے یاد رہے

جانے کب کوچے میں ہم خاک اُڑانے لگ جائیں

اس سے کہنا کہ نگاہیں بھی نہیں اٹھ سکتیں

ہم جو اپنے کبھی احسان گنانے لگ جائیں