Thursday, 22 April 2021

نبھائے ہم نے مراسم یوں بدزبان کے ساتھ

 نبھائے ہم نے مراسم یوں بد زبان کے ساتھ 

کہ جیسے رہتا ہے آئینہ اک چٹان کے ساتھ

زمیں بھی کرنے لگی اب دعا کسان کے ساتھ 

کہ دریا بہنے لگا خطرے کے نشان کے ساتھ

ہے تیرے ہاتھ میں اب لاج اُس کی ربِ کریم 

پرندہ شرط لگا بیٹھا آسمان کے ساتھ

ہم ایسے لوگ بھلا کیسے نیند بھر سوئیں 

کہ جاگ اُٹھتی ہیں فکریں میاں اذان کے ساتھ

کہیں یہ بڑھ کے مِرا حوصلہ نہ قتل کرے 

تبھی تو جنگ چھڑی ہے مِری تھکان کے ساتھ

وہ جس کے سامنے دریا نے ناک رگڑی ہے 

ہمارا رشتہ ہے اس اعلیٰ خاندان کے ساتھ

غریب ہونے سے تہذیب مر نہیں سکتی

وہ چیتھڑوں میں بھی رہتا ہے آن بان کے ساتھ


عادل رشید

No comments:

Post a Comment