نبھائے ہم نے مراسم یوں بد زبان کے ساتھ
کہ جیسے رہتا ہے آئینہ اک چٹان کے ساتھ
زمیں بھی کرنے لگی اب دعا کسان کے ساتھ
کہ دریا بہنے لگا خطرے کے نشان کے ساتھ
ہے تیرے ہاتھ میں اب لاج اُس کی ربِ کریم
پرندہ شرط لگا بیٹھا آسمان کے ساتھ
ہم ایسے لوگ بھلا کیسے نیند بھر سوئیں
کہ جاگ اُٹھتی ہیں فکریں میاں اذان کے ساتھ
کہیں یہ بڑھ کے مِرا حوصلہ نہ قتل کرے
تبھی تو جنگ چھڑی ہے مِری تھکان کے ساتھ
وہ جس کے سامنے دریا نے ناک رگڑی ہے
ہمارا رشتہ ہے اس اعلیٰ خاندان کے ساتھ
غریب ہونے سے تہذیب مر نہیں سکتی
وہ چیتھڑوں میں بھی رہتا ہے آن بان کے ساتھ
عادل رشید
No comments:
Post a Comment