Showing posts with label اسرار ناروی. Show all posts
Showing posts with label اسرار ناروی. Show all posts

Wednesday, 10 July 2024

یزید و شمر کی آنکھوں سے کم نہیں ہوتی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یزید و شمر کی آنکھوں سے کم نہیں ہوتی

غم حسینؑ میں جو آنکھ نم نہیں ہوتی

فراز دار ہو یا کربلا کی تپتی ریت

شعاع عشق کی تنویر کم نہیں ہوتی

جو فرش خاک سے پہنچائے عرش اعظم تک

ہر ایک پر وہ نگاہ کرم نہیں ہوتی

Saturday, 17 September 2022

میرے آقا میں کس منہ سے در پر ترے حاضری دوں

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


میرے آقاﷺ 

میں کس منہ سے در پر تِرےؐ حاضری دوں 

میرے ماتھے پہ اب تک نشانِ عبادت نہیں 

ایک بھی نیک عادت نہیں 

میری جھولی گُناہوں سے پُر ہے

میرے ہاتھوں کی آلودگی باعثِ شرم و غیرت بنی

Wednesday, 10 March 2021

جو ڈبو دیں وہ سمندر ہی بھلے

 جو ڈبو دیں وہ سمندر ہی بھلے

فیلسوفوں سے قلندر ہی بھلے

گر ہٹاؤ تو الجھتے بھی نہیں

تم سے تو راہ کے پتھر ہی بھلے

جب تباہی پہ تُلے خود بھی مِٹے

داستانوں کے ستمگر ہی بھلے

Friday, 19 February 2021

بہار گریہ شبنم کا راز کیا جانے

 بہار گریۂ شبنم کا راز کیا جانے

یہ اس سے پوچھ کہ دیکھے ہوں جس نے ویرانے

شریکِ بزم ہوئی جب سے چشمِ ساقی بھی

ہر ایک جام سے چھلکے ہزار مے خانے

تمام عالمِ امکاں شراب خانہ ہے

یہ اور بات ہے زاہد سبُو نہ پہچانے

Sunday, 25 December 2016

لب و رخسار و جبیں سے ملئے

لب و رخسار و جبیں سے مِلیے
جی نہیں بھرتا کہیں سے ملیے 
یوں نہ اس دل کے مکیں سے ملیے 
آسماں بن کے زمیں سے ملیے 
بجھ گیا دل تو پھر خرابی ہو گی 
پھر کسی شعلہ جبیں سے ملیے 

اے نگاران خوبرو آؤ

اے نگارانِ خوب رو، آؤ
ہو کے دیکھو تو دو بدو آؤ
یوں نہ دیکھو کہ راہرو ہو گا
تھی تمہاری ہی جستجو، آؤ
اے غزالانِ خوش خرام، رکو
اک ذرا دیر گفتگو، آؤ

عشق عرفان کی ابتدا ہے

عشق عرفاں کی ابتدا ہے
حسن منزل نہیں راستہ ہے
ذرے ذرے میں سورج ہے پنہاں
تُو افق میں کسے ڈھونڈتا ہے
پھول کی زندگی ایک دن کی
نہ جانے کس بات پر پھولتا ہے

Tuesday, 8 November 2016

اک دن جلال جبہ و دستار دیکھنا

اک دن جلالِ جبہ و دستار دیکھنا
اربابِ مکر و فن کو سرِ دار دیکھنا
سنتے رہیں کسی بھی دریدہ دہن کی بات
ہم بھی کھلے تو جوشِ گفتار دیکھنا
قرآن میں ڈھونڈتے ہیں مساواتِ احمریں
یارو! نیا یہ فتنۂ اغیار دیکھنا

کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤ

کچھ تو تعلق، کچھ تو لگاؤ
میرے دشمن ہی کہلاؤ
دل سا کھلونا ہاتھ آیا ہے
کھیلو، توڑو، جی بہلاؤ
کل اغیار میں بیٹھے تھے تم
ہاں، ہاں، کوئی بات بناؤ

Wednesday, 19 October 2016

گر وقت کڑی دھوپ ہی بن جائے تو کیا ہو

گر وقت کڑی دھوپ ہی بن جائے تو کیا ہو
وہ پھول سا چہرہ بھی جو کمہلائے تو کیا ہو 
موج مۓ گل رنگ کی لرزش ہے کہ رفتار 
اے بادہ وشو! یوں جو چھلک جائے تو کیا ہو 
ڈسنے کو چڑھی آتی ہے ناگن سی شبِ تار 
صندل سا بدن بھی جو نہ یاد آئے تو کیا ہو 

دستگیر محترم دوستو وہ جو خاموش ہیں جانے کب بول اٹھیں

دستگیر

محترم دوستو
وہ جو خاموش ہیں جانے کب بول اٹھیں
اس لیے چند چاندی کے چمچے منگاؤ
اور نگراں رہو
جیسے ہی لب کشائی ہو کوئی
ایک چاندی کا چمچہ

بانسری رات کے پر کیف سناٹے میں بنسی کی صدا

بانسری

رات کے پُرکیف سناٹے میں، بنسی کی صدا
چاندنی کے سیمگوں شانے پہ، لہراتی ہوئی
گونجتی بڑھتی لرزتی، کوہساروں کے قریب
پھیلتی میدان میں، پگڈنڈی پہ بل کھاتی ہوئی
آ رہی ہے اس طرح جیسے، کسی کی یاد آئے
نیند میں ڈوبی ہوئی، پلکوں کو اکساتی ہوئی

Saturday, 10 October 2015

چھلکتی آئے کہ اپنی طلب سے بھی کم آئے

چھلکتی آئے کہ اپنی طلب سے بھی کم آئے
ہمارے سامنے ساقی بہ ساغر جَم آئے
فروغِ آتشِ گُل ہی چمن کی ٹھنڈک ہے
سُلگتی چیختی راتوں کو بھی تو شبنم آئے
بس ایک ہم ہی لیے جائیں درس عِجز و نیاز
کبھی تو اکڑی ہوئی گردنوں میں بھی خم آئے

روح پرچھائیں ہے پرچھائیں سے کب پیار ہوا

روح پرچھائیں ہے پرچھائیں سے کب پیار ہُوا
جسم ہی تو وہ حقیقت ہے کہ دلدار ہوا
کوئی صورت بھی تو اس جیسی نہیں یاد آتی
کیسا لمحہ تھا کہ اِک عمر کا آزار ہوا
تجھ سے پہلے تو بہت سادہ و معصوم تھا دل
تجھ سے بِچھڑا تو کئی بار گنہگار ہوا

نگار شوق کی بے باکیوں سے کیا حاصل

نگار شوق کی بے باکیوں سے کیا حاصل
جو دل اداس ہو، رنگینیوں سے کیا حاصل
نہ اب وہ رات نہ وہ حُسنِ گرمئ محفل
چراغِ صُبح تُنک تابیوں سے کیا حاصل
فسُردگی کی قسم! عزم لامکاں تک ہے
نہ پوچھ دوست کہ تنہائیوں سے کیا حاصل

یوں ہی وابستگی نہیں ہوتی

یوں ہی وابستگی نہیں ہوتی
دُور سے دوستی نہیں ہوتی
جب دلوں میں غُبار ہوتا ہے
ڈھنگ سے بات بھی نہیں ہوتی
چاند کا حُسن بھی زمیں سے ہے
چاند پر چاندنی نہیں ہوتی

وہ جس کا سایہ گھنا گھنا ہے

وہ جس کا سایہ گھنا گھنا ہے
بہت کڑی دھوپ جھیلتا ہے
ابھی تو میرے ہی لب ہِلے تھے
مگر یہ کس شخص کی صدا ہے
اگر میں چپ ہوں تو سوچتا ہوں
کوئی تو پوچھے کہ بات کیا ہے

Tuesday, 14 April 2015

کچھ بھی تو اپنے پاس نہیں جز متاع جاں

کچھ بھی تو اپنے پاس نہیں جُز متاعِ جاں
اب اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاں
لکھنے کو لکھ رہے ہیں غضب کی کہانیاں
لیکن نہ لکھ سکے کبھی اپنی ہی داستاں
دل سے دماغ و حلقۂ عرفاں سے دار تک
ہم خود کو ڈھونڈتے ہوئے پہنچے کہاں کہاں

ذہن سے دل کا بار اترا ہے

ذہن سے دل کا بار اترا ہے
پیرہن تار تار اترا ہے
ڈوب جانے کی لذتیں مت پوچھ
کون ایسے میں‌ پار اترا ہے
ترکِ مئے کر کے بھی بہت پچھتائے
مدتوں میں‌ خمار اترا ہے

Saturday, 22 November 2014

آج کی رات کٹے گی کیوں کر ساز نہ جام نہ تو مہمان

آج کی رات کٹے گی کیونکر، ساز نہ جام نہ تُو مہمان
صبح تلک کیا جانئے کیا ہو، آنکھ لگے یا جائے جان
پچھلی رات کا سناٹا کہتا ہے، اب کیا آئیں گے
عقل یہ کہتی ہے سو جاؤ، دل کہتا ہے ایک نہ مان
ملکِ طرب کے رہنے والو، یہ کیسی مجبوری ہے
ہونٹوں کی بستی میں چراغاں، دل کے نگر اتنے سنسان