عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یزید و شمر کی آنکھوں سے کم نہیں ہوتی
غم حسینؑ میں جو آنکھ نم نہیں ہوتی
فراز دار ہو یا کربلا کی تپتی ریت
شعاع عشق کی تنویر کم نہیں ہوتی
جو فرش خاک سے پہنچائے عرش اعظم تک
ہر ایک پر وہ نگاہ کرم نہیں ہوتی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یزید و شمر کی آنکھوں سے کم نہیں ہوتی
غم حسینؑ میں جو آنکھ نم نہیں ہوتی
فراز دار ہو یا کربلا کی تپتی ریت
شعاع عشق کی تنویر کم نہیں ہوتی
جو فرش خاک سے پہنچائے عرش اعظم تک
ہر ایک پر وہ نگاہ کرم نہیں ہوتی
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میرے آقاﷺ
میں کس منہ سے در پر تِرےؐ حاضری دوں
میرے ماتھے پہ اب تک نشانِ عبادت نہیں
ایک بھی نیک عادت نہیں
میری جھولی گُناہوں سے پُر ہے
میرے ہاتھوں کی آلودگی باعثِ شرم و غیرت بنی
جو ڈبو دیں وہ سمندر ہی بھلے
فیلسوفوں سے قلندر ہی بھلے
گر ہٹاؤ تو الجھتے بھی نہیں
تم سے تو راہ کے پتھر ہی بھلے
جب تباہی پہ تُلے خود بھی مِٹے
داستانوں کے ستمگر ہی بھلے
بہار گریۂ شبنم کا راز کیا جانے
یہ اس سے پوچھ کہ دیکھے ہوں جس نے ویرانے
شریکِ بزم ہوئی جب سے چشمِ ساقی بھی
ہر ایک جام سے چھلکے ہزار مے خانے
تمام عالمِ امکاں شراب خانہ ہے
یہ اور بات ہے زاہد سبُو نہ پہچانے