Showing posts with label محسن کشمیری. Show all posts
Showing posts with label محسن کشمیری. Show all posts

Thursday, 6 April 2023

بعد مدت کے سہی دن یہ سہانے آئے

 بعد مدت کے سہی دن یہ سہانے آئے

آج کی شب وہ مجھے جام پلانے آئے

پی کے مدہوش بنا بیٹھا تِری یادوں میں

سوئے خوابوں کو مِرے پھر سے جگانے آئے

دیکھو ان چلتے ہوئے وقت کے طوفانوں کو

خوف فرقت کا ہمیں یار دکھانے آئے

Monday, 21 November 2022

ہے مبتلا یہ دل مرا کب سے عذاب میں

 ہے مبتلا یہ دل مِرا کب سے عذاب میں

جینا محال ہو گیا ہے اضطراب میں

شوقِ جنوں کی راہ بھی کتنی عجیب ہے

چلتا ہی جا رہا ہوں مسلسل سراب میں

پوچھا تھا اک فقیر سے مفہوم عشق کا

خونِ جگر نکال کے رکھا جواب میں

Friday, 15 April 2022

بس ایک مسافر کو ستاروں کا گماں ہے

 بس ایک مسافر کو ستاروں کا گماں ہے

اس کو ہے خبر کیا یہ پتنگوں کا جہاں ہے

ہے چاک گریبان مِرا، یہ تو بتاؤ

اس شہرِ خراباں میں رفوگر کی دکاں ہے

آ دیکھ مِری آنکھ سے آئے گا نظر سب

دنیا کی حقیقت تو محض ایک دھواں ہے

Saturday, 29 January 2022

تمنا گر ہے جنت کی تجھے زاہد عبادت کر

 تمنا گر ہے جنت کی تجھے زاہد عبادت کر

کمالِ بندگی گر چاہئے سب سے محبت کر

خلافت کر تو قائم پھر زمانے میں صداقت کی

کہ دے کر جان اپنی دینِ حق کی تو حفاظت کر

اخوّت اور محبت کی سدا تو پاسداری رکھ

تفرّق جو کرے آپس میں پیدا ان سے نفرت کر

Wednesday, 2 June 2021

چلو پھر سے محبت کی کوئی ہم بات کرتے ہیں

 چلو پھر سے محبت کی کوئی ہم بات کرتے ہیں

جو بھی ہیں تلخ سارے دفن وہ جذبات کرتے ہیں

نہیں کچھ بھی ہوا حاصل جہاں میں ایسے لوگوں کو

یہاں جو بات نفرت کی فقط دن رات کرتے ہیں

امانت مال و دولت کو سمجھتے ہیں جو دنیا میں

خدا کی راہ میں دل سے وہی خیرات کرتے ہیں

Friday, 28 May 2021

گھروں میں قید ہیں سب اور گلی کوچوں میں دہشت ہے

 گھروں میں قید ہیں سب اور گلی کوچوں میں دہشت ہے

کسی سے مل نہیں سکتے خدایا! کیسی آفت ہے

کوئی بھوکا ہے پیاسا ہے جدا کوئی ہے اپنوں سے

پریشاں ہیں سبھی ہر سُو یہاں برپا قیامت ہے

ابھی ہر سمت پہرا موت کا ہے سب رہو گھر میں

تقاضا ہے یہی اس بات کی سب کو ضرورت ہے

Wednesday, 31 March 2021

ستم کچھ اور ہم اس چارہ گر کے دیکھ لیتے ہیں

 ستم کچھ اور ہم اس چارہ گر کے دیکھ لیتے ہیں

کہ اس کے دل میں پھر سے ہم اُتر کے دیکھ لیتے ہیں

جو ہے اس ہجر کے صحرا سے آگے وصل کی وادی

تو پھر اس دشتِ ویراں سے گُزر کے دیکھ لیتے ہیں

غمِ دوراں سے فُرصت مل گئی مجھ کو تو چند لمحے

تیری یادوں کے سائے میں ٹھہر کے دیکھ لیتے ہیں

Thursday, 25 March 2021

فنا اب تو کراہت ہو رہی ہے

 فنا اب تو کراہت ہو رہی ہے

دلوں کی دور کلفت ہو رہی ہے

نیا اک زخم کھانے کے لیے اب

مجھے پھر سے محبت ہو رہی ہے

مجھے ڈسنے لگیں تنہائیاں پھر

شبِ ہجراں سے وحشت ہو رہی ہے

مری آنکھوں میں ہر دن وہ نئے سپنے سجاتا ہے

مِری آنکھوں میں ہر دن وہ نئے سپنے سجاتا ہے

نئی راہوں پہ چلنے کا ہنر مجھ کو سکھاتا ہے

عجب یہ حوصلہ اس کا کہ میں بیزار ہوں اور وہ

نیا اک دِیب چاہت کا مِرے دل میں جلاتا ہے

عنایت ہے خدا کی اور عجب اس کی محبت ہے

کہ وہ میرے گناہوں کو زمانے سے چھپاتا ہے

Wednesday, 24 March 2021

ہوئی ان سے جو اپنی آشنائی

 ہوئی ان سے جو اپنی آشنائی

مِٹی خوئے خودی اور خود نمائی

بھٹکتا پھرتا گہری ظلمتوں میں

اگر ملتی نہ تیری روشنائی

تمہارا ہجر وہ بھی عمر بھر کا

سہی جاتی نہیں اک پل جدائی

Wednesday, 23 December 2020

محبت کے لیے تو سلسلہ ہونا ضروری ہے

 محبت کے لیے تو سلسلہ ہونا ضروری ہے

مُکرنے کے لیے بس حوصلہ ہونا ضروری ہے

ہوائیں زہر آلودہ ہوئی ہیں شہر کی اتنی

کہ ملتے وقت بھی کچھ فاصلہ ہونا ضروری ہے

یقیناً زندگی مشکل سفر ہے، آج جانا ہے

یہاں ہر موڑ پر اک حادثہ ہونا ضروری ہے