بعد مدت کے سہی دن یہ سہانے آئے
آج کی شب وہ مجھے جام پلانے آئے
پی کے مدہوش بنا بیٹھا تِری یادوں میں
سوئے خوابوں کو مِرے پھر سے جگانے آئے
دیکھو ان چلتے ہوئے وقت کے طوفانوں کو
خوف فرقت کا ہمیں یار دکھانے آئے
بعد مدت کے سہی دن یہ سہانے آئے
آج کی شب وہ مجھے جام پلانے آئے
پی کے مدہوش بنا بیٹھا تِری یادوں میں
سوئے خوابوں کو مِرے پھر سے جگانے آئے
دیکھو ان چلتے ہوئے وقت کے طوفانوں کو
خوف فرقت کا ہمیں یار دکھانے آئے
ہے مبتلا یہ دل مِرا کب سے عذاب میں
جینا محال ہو گیا ہے اضطراب میں
شوقِ جنوں کی راہ بھی کتنی عجیب ہے
چلتا ہی جا رہا ہوں مسلسل سراب میں
پوچھا تھا اک فقیر سے مفہوم عشق کا
خونِ جگر نکال کے رکھا جواب میں
بس ایک مسافر کو ستاروں کا گماں ہے
اس کو ہے خبر کیا یہ پتنگوں کا جہاں ہے
ہے چاک گریبان مِرا، یہ تو بتاؤ
اس شہرِ خراباں میں رفوگر کی دکاں ہے
آ دیکھ مِری آنکھ سے آئے گا نظر سب
دنیا کی حقیقت تو محض ایک دھواں ہے
تمنا گر ہے جنت کی تجھے زاہد عبادت کر
کمالِ بندگی گر چاہئے سب سے محبت کر
خلافت کر تو قائم پھر زمانے میں صداقت کی
کہ دے کر جان اپنی دینِ حق کی تو حفاظت کر
اخوّت اور محبت کی سدا تو پاسداری رکھ
تفرّق جو کرے آپس میں پیدا ان سے نفرت کر
چلو پھر سے محبت کی کوئی ہم بات کرتے ہیں
جو بھی ہیں تلخ سارے دفن وہ جذبات کرتے ہیں
نہیں کچھ بھی ہوا حاصل جہاں میں ایسے لوگوں کو
یہاں جو بات نفرت کی فقط دن رات کرتے ہیں
امانت مال و دولت کو سمجھتے ہیں جو دنیا میں
خدا کی راہ میں دل سے وہی خیرات کرتے ہیں
گھروں میں قید ہیں سب اور گلی کوچوں میں دہشت ہے
کسی سے مل نہیں سکتے خدایا! کیسی آفت ہے
کوئی بھوکا ہے پیاسا ہے جدا کوئی ہے اپنوں سے
پریشاں ہیں سبھی ہر سُو یہاں برپا قیامت ہے
ابھی ہر سمت پہرا موت کا ہے سب رہو گھر میں
تقاضا ہے یہی اس بات کی سب کو ضرورت ہے
ستم کچھ اور ہم اس چارہ گر کے دیکھ لیتے ہیں
کہ اس کے دل میں پھر سے ہم اُتر کے دیکھ لیتے ہیں
جو ہے اس ہجر کے صحرا سے آگے وصل کی وادی
تو پھر اس دشتِ ویراں سے گُزر کے دیکھ لیتے ہیں
غمِ دوراں سے فُرصت مل گئی مجھ کو تو چند لمحے
تیری یادوں کے سائے میں ٹھہر کے دیکھ لیتے ہیں
فنا اب تو کراہت ہو رہی ہے
دلوں کی دور کلفت ہو رہی ہے
نیا اک زخم کھانے کے لیے اب
مجھے پھر سے محبت ہو رہی ہے
مجھے ڈسنے لگیں تنہائیاں پھر
شبِ ہجراں سے وحشت ہو رہی ہے
مِری آنکھوں میں ہر دن وہ نئے سپنے سجاتا ہے
نئی راہوں پہ چلنے کا ہنر مجھ کو سکھاتا ہے
عجب یہ حوصلہ اس کا کہ میں بیزار ہوں اور وہ
نیا اک دِیب چاہت کا مِرے دل میں جلاتا ہے
عنایت ہے خدا کی اور عجب اس کی محبت ہے
کہ وہ میرے گناہوں کو زمانے سے چھپاتا ہے
ہوئی ان سے جو اپنی آشنائی
مِٹی خوئے خودی اور خود نمائی
بھٹکتا پھرتا گہری ظلمتوں میں
اگر ملتی نہ تیری روشنائی
تمہارا ہجر وہ بھی عمر بھر کا
سہی جاتی نہیں اک پل جدائی
محبت کے لیے تو سلسلہ ہونا ضروری ہے
مُکرنے کے لیے بس حوصلہ ہونا ضروری ہے
ہوائیں زہر آلودہ ہوئی ہیں شہر کی اتنی
کہ ملتے وقت بھی کچھ فاصلہ ہونا ضروری ہے
یقیناً زندگی مشکل سفر ہے، آج جانا ہے
یہاں ہر موڑ پر اک حادثہ ہونا ضروری ہے