فنا اب تو کراہت ہو رہی ہے
دلوں کی دور کلفت ہو رہی ہے
نیا اک زخم کھانے کے لیے اب
مجھے پھر سے محبت ہو رہی ہے
مجھے ڈسنے لگیں تنہائیاں پھر
شبِ ہجراں سے وحشت ہو رہی ہے
نظر کس کی لگی یہ آسماں کو
ستاروں میں بغاوت ہو رہی ہے
تِری یادوں کے سائے میں ٹھہر کر
مجھے جینے کی چاہت ہو رہی ہے
مِرا ایماں تو رخصت ہو رہا ہے
نگاہوں سے شرارت ہو رہی ہے
چلا ہے سلسلہ پھر قربتوں کا
عجب مجھ پے عنایت ہو رہی ہے
سُلگتا ہے مِرا دل دیکھ کر یہ
محبت کی تجارت ہو رہی ہے
اُدھر رُخسار سے پردہ ہٹا ہے
اِدھر برپا قیامت ہو رہی ہے
کُھلیں گے جانے کتنے راز محسن
فقیروں سے جو نسبت ہو رہی ہے
محسن کشمیری
No comments:
Post a Comment