Thursday, 25 March 2021

فنا اب تو کراہت ہو رہی ہے

 فنا اب تو کراہت ہو رہی ہے

دلوں کی دور کلفت ہو رہی ہے

نیا اک زخم کھانے کے لیے اب

مجھے پھر سے محبت ہو رہی ہے

مجھے ڈسنے لگیں تنہائیاں پھر

شبِ ہجراں سے وحشت ہو رہی ہے

نظر کس کی لگی یہ آسماں کو

ستاروں میں بغاوت ہو رہی ہے

تِری یادوں کے سائے میں ٹھہر کر

مجھے جینے کی چاہت ہو رہی ہے

مِرا ایماں تو رخصت ہو رہا ہے

نگاہوں سے شرارت ہو رہی ہے

چلا ہے سلسلہ پھر قربتوں کا

عجب مجھ پے عنایت ہو رہی ہے

سُلگتا ہے مِرا دل دیکھ کر یہ

محبت کی تجارت ہو رہی ہے

اُدھر رُخسار سے پردہ ہٹا ہے

اِدھر برپا قیامت ہو رہی ہے

کُھلیں گے جانے کتنے راز محسن

فقیروں سے جو نسبت ہو رہی ہے


محسن کشمیری

No comments:

Post a Comment