بس ذرا دیر سے احساس ہوا تھا مجھ کو
وہ بھی میری ہی طرح سوچ رہا تھا مجھ کو
یہ ہی اک شخص بھٹکتا ہے جو صحرا صحرا
ایک دن شہرِ تمنا میں ملا تھا مجھ کو
میں تو موجود تھا ہر دم تِرے افسانے میں
میرے راوی نے مگر مار دیا تھا مجھ کو
بس ذرا دیر سے احساس ہوا تھا مجھ کو
وہ بھی میری ہی طرح سوچ رہا تھا مجھ کو
یہ ہی اک شخص بھٹکتا ہے جو صحرا صحرا
ایک دن شہرِ تمنا میں ملا تھا مجھ کو
میں تو موجود تھا ہر دم تِرے افسانے میں
میرے راوی نے مگر مار دیا تھا مجھ کو
رعایا ظلم پہ جب سر اٹھانے لگتی ہے
تو اقتدار کی لو تھرتھرانے لگتی ہے
ہمیشہ ہوتا ہوں کوشش میں بھول جانے کی
وہ یاد اور بھی شدت سے آنے لگتی ہے
حقیر کرتی ہے یوں بھی کبھی کبھی دنیا
مِرے ضمیر کی قیمت لگانے لگتی ہے
چشمِ بِینا تِرے بازار کا معیار ہیں ہم
دیکھ ٹوٹے ہوئے خوابوں کے خریدار ہیں ہم
کیسے تاریخ فراموش کرے گی ہم کو
تیغ پر خون سے لکھا ہوا انکار ہیں ہم
تم جو کہتے ہو کہ باقی نہ رہے اہلِ دل
زخم بیچو گے؟ چلو بیچو خریدار ہیں ہم
یہ آرزو تھی اسے آئینہ بناتے ہم
اور آئینے کی حفاظت میں ٹوٹ جاتے ہم
تمام عمر بھٹکتے رہے یہ کہتے ہوئے
کہ گھر بناتے سجاتے اسے بلاتے ہم
ہر آدمی وہاں مصروف قہقہوں میں تھا
یہ آنسوؤں کی کہانی کسے سناتے ہم
نظر نظر سے ملا کر کلام کر آیا
غلام شاہ کی نیندیں حرام کر آیا
کئی چراغ ہوا کے اثر میں آئے تھے
میں ایک جگنو کو ان کا امام کر آیا
یہ کس کی پیاس کے چھینٹے پڑے ہیں پانی پر
یہ کون جبر کا قصہ تمام کر آیا
دیکھیں کتنے چاہنے والے نکلیں گے
اب کے ہم بھی بھیس بدل کے نکلیں گے
چاہے جتنا شہد پِلا دو شاخوں کو
نِیم کے پتے پھر بھی کڑوے نکلیں گے
پیر کے چھالے پوچھ رہے ہیں رہبر سے
اک رستے سے کتنے رستے نکلیں گے
ایک تصویر جلانی ہے ابھی
ہاں مگر آنکھ میں پانی ہے ابھی
اس نے جب ہاتھ ملایا تو لگا
دل میں اک پھانس پرانی ہے ابھی
ابھی باقی ہے بچھڑنا اس سے
نا مکمل یہ کہانی ہے ابھی
اپنی پلکوں کے شبستان میں رکھا ہے تمہیں
تم صحیفہ ہو سو جُزدان میں رکھا ہے تمہیں
ساتھ ہونے کے یقیں میں بھی مِرے ساتھ ہو تم
اور نہ ہونے کے بھی امکان میں رکھا ہے تمہیں
ایک کم ظرف کے سائے سے بھلی ہے یہ دھوپ
تم سمجھتے ہو کہ نقصان میں رکھا ہے تمہیں