Showing posts with label طارق قمر. Show all posts
Showing posts with label طارق قمر. Show all posts

Sunday, 2 October 2022

بس ذرا دیر سے احساس ہوا تھا مجھ کو

 بس ذرا دیر سے احساس ہوا تھا مجھ کو

وہ بھی میری ہی طرح سوچ رہا تھا مجھ کو

یہ ہی اک شخص بھٹکتا ہے جو صحرا صحرا 

ایک دن شہرِ تمنا میں ملا تھا مجھ کو

میں تو موجود تھا ہر دم تِرے افسانے میں

میرے راوی نے مگر مار دیا تھا مجھ کو

Wednesday, 12 May 2021

رعایا ظلم پہ جب سر اٹھانے لگتی ہے

 رعایا ظلم پہ جب سر اٹھانے لگتی ہے

تو اقتدار کی لو تھرتھرانے لگتی ہے

ہمیشہ ہوتا ہوں کوشش میں بھول جانے کی

وہ یاد اور بھی شدت سے آنے لگتی ہے

حقیر کرتی ہے یوں بھی کبھی کبھی دنیا

مِرے ضمیر کی قیمت لگانے لگتی ہے

Wednesday, 5 May 2021

چشم بینا ترے بازار کا معیار ہیں ہم

 چشمِ بِینا تِرے بازار کا معیار ہیں ہم

دیکھ ٹوٹے ہوئے خوابوں کے خریدار ہیں ہم

کیسے تاریخ فراموش کرے گی ہم کو

تیغ پر خون سے لکھا ہوا انکار ہیں ہم

تم جو کہتے ہو کہ باقی نہ رہے اہلِ دل

زخم بیچو گے؟ چلو بیچو خریدار ہیں ہم

Tuesday, 27 April 2021

یہ آرزو تھی اسے آئینہ بناتے ہم

 یہ آرزو تھی اسے آئینہ بناتے ہم

اور آئینے کی حفاظت میں ٹوٹ جاتے ہم

تمام عمر بھٹکتے رہے یہ کہتے ہوئے

کہ گھر بناتے سجاتے اسے بلاتے ہم

ہر آدمی وہاں مصروف قہقہوں میں تھا

یہ آنسوؤں کی کہانی کسے سناتے ہم

Sunday, 25 April 2021

نظر نظر سے ملا کر کلام کر آیا

 نظر نظر سے ملا کر کلام کر آیا

غلام شاہ کی نیندیں حرام کر آیا

کئی چراغ ہوا کے اثر میں آئے تھے

میں ایک جگنو کو ان کا امام کر آیا

یہ کس کی پیاس کے چھینٹے پڑے ہیں پانی پر

یہ کون جبر کا قصہ تمام کر آیا

Saturday, 24 April 2021

دیکھیں کتنے چاہنے والے نکلیں گے

 دیکھیں کتنے چاہنے والے نکلیں گے

اب کے ہم بھی بھیس بدل کے نکلیں گے

چاہے جتنا شہد پِلا دو شاخوں کو

نِیم کے پتے پھر بھی کڑوے نکلیں گے

پیر کے چھالے پوچھ رہے ہیں رہبر سے

اک رستے سے کتنے رستے نکلیں گے

ایک تصویر جلانی ہے ابھی

 ایک تصویر جلانی ہے ابھی

ہاں مگر آنکھ میں پانی ہے ابھی

اس نے جب ہاتھ ملایا تو لگا

دل میں اک پھانس پرانی ہے ابھی

ابھی باقی ہے بچھڑنا اس سے

نا مکمل یہ کہانی ہے ابھی

Thursday, 28 January 2021

اپنی پلکوں کے شبستان میں رکھا ہے تمہیں

 اپنی پلکوں کے شبستان میں رکھا ہے تمہیں

تم صحیفہ ہو سو جُزدان میں رکھا ہے تمہیں

ساتھ ہونے کے یقیں میں بھی مِرے ساتھ ہو تم

اور نہ ہونے کے بھی امکان میں رکھا ہے تمہیں

ایک کم ظرف کے سائے سے بھلی ہے یہ دھوپ

تم سمجھتے ہو کہ نقصان میں رکھا ہے تمہیں