Friday, 4 September 2026

یارو بتاؤ تم کو میں کیا کیا دبئی میں ہے

 زعفرانی غزل


یارو بتاؤ تم کو میں کیا کیا دبئی میں ہے

سارے زمانے بھرکا تماشہ دبئی میں ہے

شلوار پر بھی اس نے کندورہ چڑھا لیا

آدھا ہے اپنے ملک میں آدھا دبئی میں ہے

کل مرکز الغریر میں لڑنے لگے رقیب

لڑکی ہے لالو کھیت میں پھڈا دبئی میں ہے

اس بار میرے حج کا ٹکٹ یوں بنائیے

دو چار دن کے واسطے رکنا دبئی میں ہے

ویزے کی فکر چھوڑئیے یہ مسئلہ نہیں

اپنے کریم بھائی کا لڑکا دبئی میں ہے

سنیے ہماری چاند سی بِٹیا کے واسطے

میری نظر میں اچھا سا لڑکا دبئی میں ہے

بھینگا ہے، بدمزاج، ٹھِگنا ہے ہو تو ہو

لیکن جناب خیر سے لڑکا دبئی میں ہے

بھائی بہن کا پیار مصدق نہ مِل سکا

یہ سب ہے اپنے ملک میں پیسہ دبئی میں ہے


 محمد مصدق لاکھانی

No comments:

Post a Comment