زعفرانی غزل
یارو بتاؤ تم کو میں کیا کیا دبئی میں ہے
سارے زمانے بھرکا تماشہ دبئی میں ہے
شلوار پر بھی اس نے کندورہ چڑھا لیا
آدھا ہے اپنے ملک میں آدھا دبئی میں ہے
کل مرکز الغریر میں لڑنے لگے رقیب
لڑکی ہے لالو کھیت میں پھڈا دبئی میں ہے
اس بار میرے حج کا ٹکٹ یوں بنائیے
دو چار دن کے واسطے رکنا دبئی میں ہے
ویزے کی فکر چھوڑئیے یہ مسئلہ نہیں
اپنے کریم بھائی کا لڑکا دبئی میں ہے
سنیے ہماری چاند سی بِٹیا کے واسطے
میری نظر میں اچھا سا لڑکا دبئی میں ہے
بھینگا ہے، بدمزاج، ٹھِگنا ہے ہو تو ہو
لیکن جناب خیر سے لڑکا دبئی میں ہے
بھائی بہن کا پیار مصدق نہ مِل سکا
یہ سب ہے اپنے ملک میں پیسہ دبئی میں ہے
محمد مصدق لاکھانی
No comments:
Post a Comment