Showing posts with label فوزیہ رباب. Show all posts
Showing posts with label فوزیہ رباب. Show all posts

Wednesday, 27 December 2023

کبھی لب پہ نعت سجا سکوں مجھے اذن دے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کبھی لب پہ نعت سجا سکوں مجھے اِذن دے

میں مدینہ جا کے سُنا سکوں مجھے اذن دے

مِری التجائیں حضور انؐ کے پہنچ سکیں

انہیںؐ دُکھ میں اپنے سُنا سکوں مجھے اذن دے

مِری عمر گُزرے فقط حضورﷺ کی یاد میں

کہ میں اپنی ذات بھُلا سکوں مجھے اذن دے

Friday, 28 April 2023

جو بے کسوں کا ہے اک سہارا در نبی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


جو بے کسوں کا ہے اک سہارا درِ نبیﷺ ہے

نہیں ہے جس کے بنا گزارا درِ نبیﷺ ہے

ریاضتوں کا صِلہ ملے بس اسی کی صورت

مِری محبت کا استعارہ درِ نبیﷺ ہے

ارے زمانے ہمیں یہاں کی دمک نہ دکھلا

تجھے کہا ناں کہ بس ہمارا درِ نبیﷺ ہے

Sunday, 12 February 2023

دوری بیچ میں لے آئیں گے

  دوری بیچ میں لے آئیں گے

آپ بتائیں! سہہ پائیں گے

میری مرگ پہ پُرسہ دینے

لوگ تمہارے پاس آئیں گے

تیرے بارے میں لوگوں کو

جانے کیسے بتلائیں گے

Monday, 4 April 2022

ترا خیال کبھی چھو کے جب گزرتا ہے

 تِرا خیال کبھی چُھو کے جب گزرتا ہے

بدن کے رنگ سے آنچل مِرا مہکتا ہے

نئے زمانے نئے موسموں سے گونجتے ہیں

کوئی پرندہ مِری چھت پہ بھی چہکتا ہے

وہ غفلتوں کا پرستار ہو گیا ہے اگر

دعا کروں گی مِرا دُکھ خدا تو سنتا ہے

Thursday, 28 October 2021

اک بے ہنر کو داد میں ہر بار تالیاں

 اک بے ہنر کو داد میں ہر بار تالیاں

مجھ کو لگی ہیں اب کہ سزاوار تالیاں

ایسے سراہتا ہے یہ شہرِ منافقت

جیسے کسی کے فن کا ہوں انکار تالیاں

اس سمت تھا غریب کا لاشہ پڑا ہوا

بجنے لگیں کنارے کے اس پار تالیاں

Monday, 26 July 2021

جب سے تیری یاد پتھر ہو گئی

 جب سے تیری یاد پتھر ہو گئی

ہو گئی برباد، پتھر ہو گئی

بے خبر میرے تجھے اس بار میں

کرتے کرتے یاد پتھر ہو گئی

عرش کی جانب چلی تھی اور پھر

میری ہر فریاد پتھر ہو گئی

Monday, 26 April 2021

اسی کا ذکر کہانی سے اقتباس رہے

 اسی کا ذکر کہانی سے اقتباس رہے

وہ ہر گھڑی جو مِرے واسطے اداس رہے

یہ اس کا قُرب مجھے عشق کی عطا سے ملا

وہ دور جائے، مگر میرے آس پاس رہے

طرح طرح سے مجھے تو بچھڑ بچھڑ کے ملا

طرح طرح کے مِرے ذہن میں قیاس رہے

Monday, 19 April 2021

تھی اس کے لیے خواب کی تعبیر کوئی ہیر

تھی اس کے لیے خواب کی تعبیر، کوئی ہیر

کرتی تھی نہ رانجھے کو جو تسخیر، کوئی ہیر

ہوتی ہے وہ عزت بھی، وہ بیٹی بھی، حیا بھی

کیوں پہنے فقط عشق کی زنجیر، کوئی ہیر

اس درجہ تمہیں پاسِ زمانہ ہے بھلا کیوں

کیا تم نہ کرو گے کبھی تعمیر کوئی ہیر

Friday, 16 April 2021

دل میں تصویر تری آنکھ میں آثار ترے

دل میں تصویر تِری آنکھ میں آثار تِرے

زخم ہاتھوں میں لیے پھرتے ہیں بیمار ترے

اے شبِ رنج و الم دیکھ ذرا رحم تو کر

آہ کس کرب میں رہتے ہیں عزادار ترے

زعم ہے تجھ کو اگر اپنے قبیلے پہ تو سُن

میرے قدموں میں گرے تھے کبھی سردار ترے

Thursday, 1 April 2021

قلم اٹھاؤ اداس لوگو حقیقتوں کا صفحہ نکالو

قلم اُٹھاؤ

اُداس لوگو

اداسیوں کا لباس تن سے اُتار پھینکو

اے خواہشوں کے اسیر لوگو

حقیقتوں سے نظر نہ پھیرو

کئی سسکتی ہوئی سی بے سود خواہشوں کا 

Saturday, 12 December 2020

لوگ کرتے ہیں فقط وقت گزاری پاگل

 لوگ کرتے ہیں فقط وقت گزاری پاگل

بات کرتا ہے یہاں کون ہماری پاگل

اس نے اک بار کہا کوئی نہیں تم جیسا

تب سے میں لگنے لگی خود کو بھی پیاری پاگل

وہ بھی ہنس ہنس کے کیا کرتا تھا باتیں اور میں

اس کی باتوں میں چلی آئی بےچاری پاگل