Showing posts with label شین کاف نظام. Show all posts
Showing posts with label شین کاف نظام. Show all posts

Wednesday, 2 November 2022

وہ گنگناتے راستے خوابوں کے کیا ہوئے

 وہ گنگناتے راستے خوابوں کے کیا ہوئے

ویرانہ کیوں ہیں بستیاں باشندے کیا ہوئے

وہ جاگتی جبینیں کہاں جا کے سو گئیں

وہ بولتے بدن جو سمٹتے تھے کیا ہوئے

جن سے اندھیری راتوں میں جل جاتے تھے دیے

کتنے حسین لوگ تھے کیا جانے کیا ہوئے

Thursday, 16 December 2021

آنکھوں میں رات خواب کا خنجر اتر گیا

 آنکھوں میں رات خواب کا خنجر اتر گیا

یعنی سحر سے پہلے چراغ سحر گیا

اس فکر ہی میں اپنی تو گزری تمام عمر

میں اس کو تھا پسند تو کیوں چھوڑ کر گیا

آنسو مِرے تو میرے ہی دامن میں آئے تھے

آکاش کیسے اتنے ستاروں سے بھر گیا

Tuesday, 7 December 2021

وہی نہ ملنے کا غم اور وہی گلہ ہو گا

 وہی نہ ملنے کا غم اور وہی گِلا ہو گا

میں جانتا ہوں مجھے اس نے کیا لِکھا ہو گا

کواڑوں پر لِکھی ابجد گواہی دیتی ہے

وہ ہفت رنگی کہیں چاک ڈھونڈھتا ہو گا

پرانے وقتوں کا ہے قصر زندگی میری

تمہارا نام بھی اس میں کہیں لکھا ہو گا

Monday, 6 December 2021

بہت پرانی ہمارے رشتوں کی سب قبائیں

 مشورہ


بہت پرانی

ہمارے رشتوں کی سب قبائیں

جگہ جگہ سے

اسی لیے سب مسک رہی ہیں

اتاریں ان کو

Sunday, 5 December 2021

دروازہ کوئی گھر سے نکلنے کے لئے دے

 دروازہ کوئی گھر سے نکلنے کے لیے دے

بے خوف کوئی راستہ چلنے کے لیے دے

آنکھوں کو عطا خواب کئے شکریہ، لیکن

پیکر بھی کوئی خوابوں میں ڈھلنے کے لیے دے

پانی کا ہی پیکر کسی پربت کو عطا کر

اک بوند ہی ندی کو اچھلنے کے لیے دے

Monday, 6 September 2021

موج ہوا تو اب کے عجب کام کر گئی

 موجِ ہوا تو اب کے عجب کام کر گئی

اُڑتے ہوئے پرندوں کے پر بھی کتر گئی

آنکھیں کہیں دماغ کہیں دست و پا کہیں

رستوں کی بھیڑ بھاڑ میں دنیا بکھر گئی

کچھ لوگ دھوپ پیتے ہیں ساحل پہ لیٹ کر

طوفان تک اگر کبھی اس کی خبر گئی