وہ گنگناتے راستے خوابوں کے کیا ہوئے
ویرانہ کیوں ہیں بستیاں باشندے کیا ہوئے
وہ جاگتی جبینیں کہاں جا کے سو گئیں
وہ بولتے بدن جو سمٹتے تھے کیا ہوئے
جن سے اندھیری راتوں میں جل جاتے تھے دیے
کتنے حسین لوگ تھے کیا جانے کیا ہوئے
وہ گنگناتے راستے خوابوں کے کیا ہوئے
ویرانہ کیوں ہیں بستیاں باشندے کیا ہوئے
وہ جاگتی جبینیں کہاں جا کے سو گئیں
وہ بولتے بدن جو سمٹتے تھے کیا ہوئے
جن سے اندھیری راتوں میں جل جاتے تھے دیے
کتنے حسین لوگ تھے کیا جانے کیا ہوئے
آنکھوں میں رات خواب کا خنجر اتر گیا
یعنی سحر سے پہلے چراغ سحر گیا
اس فکر ہی میں اپنی تو گزری تمام عمر
میں اس کو تھا پسند تو کیوں چھوڑ کر گیا
آنسو مِرے تو میرے ہی دامن میں آئے تھے
آکاش کیسے اتنے ستاروں سے بھر گیا
وہی نہ ملنے کا غم اور وہی گِلا ہو گا
میں جانتا ہوں مجھے اس نے کیا لِکھا ہو گا
کواڑوں پر لِکھی ابجد گواہی دیتی ہے
وہ ہفت رنگی کہیں چاک ڈھونڈھتا ہو گا
پرانے وقتوں کا ہے قصر زندگی میری
تمہارا نام بھی اس میں کہیں لکھا ہو گا
مشورہ
بہت پرانی
ہمارے رشتوں کی سب قبائیں
جگہ جگہ سے
اسی لیے سب مسک رہی ہیں
اتاریں ان کو
دروازہ کوئی گھر سے نکلنے کے لیے دے
بے خوف کوئی راستہ چلنے کے لیے دے
آنکھوں کو عطا خواب کئے شکریہ، لیکن
پیکر بھی کوئی خوابوں میں ڈھلنے کے لیے دے
پانی کا ہی پیکر کسی پربت کو عطا کر
اک بوند ہی ندی کو اچھلنے کے لیے دے
موجِ ہوا تو اب کے عجب کام کر گئی
اُڑتے ہوئے پرندوں کے پر بھی کتر گئی
آنکھیں کہیں دماغ کہیں دست و پا کہیں
رستوں کی بھیڑ بھاڑ میں دنیا بکھر گئی
کچھ لوگ دھوپ پیتے ہیں ساحل پہ لیٹ کر
طوفان تک اگر کبھی اس کی خبر گئی