دعا ہے اور دعا کے علاوہ کچھ بھی نہیں
ہمارے پاس خدا کے علاوہ کچھ بھی نہیں
میں اپنے چاہنے والوں کو کیسے بتلاؤں
کہ میرے دل میں خلا کے علاوہ کچھ بھی نہیں
وہ کھولنا تھے جنہیں رازِ زندگی، اُن سے
کُھلا تو بندِ قبا کے علاوہ کچھ بھی نہیں
دعا ہے اور دعا کے علاوہ کچھ بھی نہیں
ہمارے پاس خدا کے علاوہ کچھ بھی نہیں
میں اپنے چاہنے والوں کو کیسے بتلاؤں
کہ میرے دل میں خلا کے علاوہ کچھ بھی نہیں
وہ کھولنا تھے جنہیں رازِ زندگی، اُن سے
کُھلا تو بندِ قبا کے علاوہ کچھ بھی نہیں
یہ اعتماد مجھے شہسوار کرتا ہے
وہ مجھ کو اپنی سپاہ میں شمار کرتا ہے
وہیں سے راہِ تعلق کُشادہ ہوتی ہے
جہاں وہ راہِ مفر اختیار کرتا ہے
تمام آنکھوں میں روشن ہے اک چراغِ دعا
یہاں ہر ایک ترا انتظار کرتا ہے
جب میں دریا سے ملا اپنی پشیمانی پر
ایک حیرت سی نمودار ہوئی پانی پر
یاد آتا ہے مجھے جب بھی وہ ماں کا بوسہ
چمک اٹھتے ہیں ستارے مِری پیشانی پر
میری کایہ بھی کسی وقت پلٹ سکتی ہے
اس قدر خوش بھی نہ ہو میری پریشانی پر