Showing posts with label برار شاہ. Show all posts
Showing posts with label برار شاہ. Show all posts

Thursday, 13 November 2025

دعا ہے اور دعا کے علاوہ کچھ بھی نہیں

 دعا ہے اور دعا کے علاوہ کچھ بھی نہیں

ہمارے پاس خدا کے علاوہ کچھ بھی نہیں

میں اپنے چاہنے والوں کو کیسے بتلاؤں

کہ میرے دل میں خلا کے علاوہ کچھ بھی نہیں

وہ کھولنا تھے جنہیں رازِ زندگی، اُن سے

کُھلا تو بندِ قبا کے علاوہ کچھ بھی نہیں

Thursday, 25 July 2024

یہ اعتماد مجھے شہسوار کرتا ہے

 یہ اعتماد مجھے شہسوار کرتا ہے

وہ مجھ کو اپنی سپاہ میں شمار کرتا ہے

وہیں سے راہِ تعلق کُشادہ ہوتی ہے

جہاں وہ راہِ مفر اختیار کرتا ہے

تمام آنکھوں میں روشن ہے اک چراغِ دعا

یہاں ہر ایک ترا انتظار کرتا ہے

Tuesday, 9 March 2021

جب میں دریا سے ملا اپنی پشیمانی پر

 جب میں دریا سے ملا اپنی پشیمانی پر

ایک حیرت سی نمودار ہوئی پانی پر

یاد آتا ہے مجھے جب بھی وہ ماں کا بوسہ

چمک اٹھتے ہیں ستارے مِری پیشانی پر

میری کایہ بھی کسی وقت پلٹ سکتی ہے

اس قدر خوش بھی نہ ہو میری پریشانی پر