سکھ دکھ میں گرم و سرد میں سیلاب میں بھی ہیں
یادیں تمہاری موسم شاداب میں بھی ہیں
ہونے لگی شکست جو ہر موڑ پر مجھے
دشمن پتہ چلا مِرے احباب میں بھی ہیں
دامن کو پاک رکھنے کے حق میں تھا میں مگر
وہ کہہ رہی تھی داغ تو مہتاب میں بھی ہیں
سکھ دکھ میں گرم و سرد میں سیلاب میں بھی ہیں
یادیں تمہاری موسم شاداب میں بھی ہیں
ہونے لگی شکست جو ہر موڑ پر مجھے
دشمن پتہ چلا مِرے احباب میں بھی ہیں
دامن کو پاک رکھنے کے حق میں تھا میں مگر
وہ کہہ رہی تھی داغ تو مہتاب میں بھی ہیں
یوں ہی اداس ہے دل بے قرار تھوڑی ہے
مجھے کسی کا کوئی انتظار تھوڑی ہے
نظر ملا کے بھی تم سے گلہ کروں کیسے
تمہارے دل پے مرا اختیار تھوڑی ہے
مجھے بھی نیند نہ آئے اسے بھی چین نہ ہو
ہمارے بیچ بھلا اتنا پیار تھوڑی ہے
وہ نظروں سے میری نظر کاٹتا ہے
💕محبت کا پہلا اثر کاٹتا ہے💕
مجھے گھر میں بھی چین پڑتا نہیں تھا
سفر میں ہوں اب تو سفر کاٹتا ہے
یہ ماں کی دُعائیں حفاظت کریں گی
یہ تعویذ سب کی نظر کاٹتا ہے
گُم سُم تنہا بیٹھا ہو گا
سگریٹ کے کش بھرتا ہو گا
اس نے کھڑکی کھولی ہو گی
اور گلی میں دیکھا ہو گا
زور سے میرا دل دھڑکا ہے
اس نے مجھ کو سوچا ہو گا