Showing posts with label اشرف شاد. Show all posts
Showing posts with label اشرف شاد. Show all posts

Saturday, 11 December 2021

ملاح اپنی کشتی میں غافل پڑا رہا

 ملاح اپنی کشتی میں غافل پڑا رہا

طوفاں میں رہنما مِرا کچا گھڑا رہا

آندھی چلی تو پیڑ جڑوں سے اکھڑ گئے

اِک برگِ خشک تھا جو زمیں پر پڑا رہا

اشکوں کے قافلے تو کہِیں اور بڑھ گئے

آنکھوں میں تیرے جانے کا منظر گڑا رہا

Monday, 12 April 2021

جب بھی ہوتے ہوئے دیکھی ہے سحر رستے میں

 جب بھی ہوتے ہوئے دیکھی ہے سحر رستے میں

مل گئی ہے تِرے آنے کی خبر رستے میں

ہے تمنا گھنی چھاؤں کی تو آ کر پہلے

دیکھ سُوکھا ہوا بے سایۂ شجر رستے میں

سب ہی بیٹھے رہے ساحل کی تمنا کر کے

کس کو معلوم تھا آئیں گے بھنور رستے میں

Wednesday, 31 March 2021

ان سے ملا تو پھر میں کسی کا نہیں رہا

 ان سے ملا تو پھر میں کسی کا نہیں رہا

اور جب بچھڑ گیا تو خود اپنا نہیں رہا

دیوار ٹوٹنے کا عجب سلسلہ چلا

سایوں کے سر پہ اب کوئی سایہ نہیں رہا

ہر اک مکاں سے نام کی تختی اُتر گئی

دل کی فصیل پہ کوئی پہرہ نہیں رہا

Saturday, 27 March 2021

میں کہہ نہ سکا اس سے جو اک بات چیخ کر

 میں کہہ نہ سکا اس سے جو اک بات چیخ کر

سب کو سُنا رہا ہے وہ، دن رات چیخ کر

سیلاب اس کی آنکھوں میں آیا تو ہے مگر

خاموش جب ہُوئے، مِرے جذبات چیخ کر

کیا کیا چُبھا گیا تھا کمالِ رفُوگری

کیا کیا نہ کہہ گئے مِرے حالات چیخ کر

تھیں زمینیں گم شدہ اور آسماں ملتا نہ تھا

 تھیں زمینیں گم شدہ اور آسماں ملتا نہ تھا

سر پہ سورج تھا مِرے پر سائباں ملتا نہ تھا

بے نتیجہ ہی رہی ہے ہر سفر کی جستجو

ڈھونڈنے نکلے تھے جس کو وہ جہاں ملتا نہ تھا

منزلیں آسان تھیں اور راستے مخدوش تھے

کشتیاں موجود تھیں پر بادباں ملتا نہ تھا

Friday, 26 March 2021

دے آیا اپنی جان بھی دربار عشق میں

 دے آیا اپنی جان بھی دربار عشق میں

پھر بھی نہ بن سکا خبر اخبارِ‌ عشق میں

جب مل نہ پایا اس سے مجھے اذنِ گفتگو

میں اک کتاب بن گیا اظہارِ عشق میں

قیمت لگا سکا نہ خریدار پھر بھی میں

جنسِ وفا بنا رہا بازارِ عشق میں

اس کی جدائی کیسے کمالات کر گئی

 اس کی جدائی کیسے کمالات کر گئی

وہ خواب بن کے مجھ سے ملاقات کر گئی

دیکھا اسے جو میں نے تو کچھ بھی نہ سن سکا

کیا بات کر رہی تھی، وہ کیا بات کر گئی

نادیدہ منزلوں کے لیے راستوں کی دھول

جب کہکشاں بنی تو کرامات کر گئی