ملاح اپنی کشتی میں غافل پڑا رہا
طوفاں میں رہنما مِرا کچا گھڑا رہا
آندھی چلی تو پیڑ جڑوں سے اکھڑ گئے
اِک برگِ خشک تھا جو زمیں پر پڑا رہا
اشکوں کے قافلے تو کہِیں اور بڑھ گئے
آنکھوں میں تیرے جانے کا منظر گڑا رہا
ملاح اپنی کشتی میں غافل پڑا رہا
طوفاں میں رہنما مِرا کچا گھڑا رہا
آندھی چلی تو پیڑ جڑوں سے اکھڑ گئے
اِک برگِ خشک تھا جو زمیں پر پڑا رہا
اشکوں کے قافلے تو کہِیں اور بڑھ گئے
آنکھوں میں تیرے جانے کا منظر گڑا رہا
جب بھی ہوتے ہوئے دیکھی ہے سحر رستے میں
مل گئی ہے تِرے آنے کی خبر رستے میں
ہے تمنا گھنی چھاؤں کی تو آ کر پہلے
دیکھ سُوکھا ہوا بے سایۂ شجر رستے میں
سب ہی بیٹھے رہے ساحل کی تمنا کر کے
کس کو معلوم تھا آئیں گے بھنور رستے میں
ان سے ملا تو پھر میں کسی کا نہیں رہا
اور جب بچھڑ گیا تو خود اپنا نہیں رہا
دیوار ٹوٹنے کا عجب سلسلہ چلا
سایوں کے سر پہ اب کوئی سایہ نہیں رہا
ہر اک مکاں سے نام کی تختی اُتر گئی
دل کی فصیل پہ کوئی پہرہ نہیں رہا
میں کہہ نہ سکا اس سے جو اک بات چیخ کر
سب کو سُنا رہا ہے وہ، دن رات چیخ کر
سیلاب اس کی آنکھوں میں آیا تو ہے مگر
خاموش جب ہُوئے، مِرے جذبات چیخ کر
کیا کیا چُبھا گیا تھا کمالِ رفُوگری
کیا کیا نہ کہہ گئے مِرے حالات چیخ کر
تھیں زمینیں گم شدہ اور آسماں ملتا نہ تھا
سر پہ سورج تھا مِرے پر سائباں ملتا نہ تھا
بے نتیجہ ہی رہی ہے ہر سفر کی جستجو
ڈھونڈنے نکلے تھے جس کو وہ جہاں ملتا نہ تھا
منزلیں آسان تھیں اور راستے مخدوش تھے
کشتیاں موجود تھیں پر بادباں ملتا نہ تھا
دے آیا اپنی جان بھی دربار عشق میں
پھر بھی نہ بن سکا خبر اخبارِ عشق میں
جب مل نہ پایا اس سے مجھے اذنِ گفتگو
میں اک کتاب بن گیا اظہارِ عشق میں
قیمت لگا سکا نہ خریدار پھر بھی میں
جنسِ وفا بنا رہا بازارِ عشق میں
اس کی جدائی کیسے کمالات کر گئی
وہ خواب بن کے مجھ سے ملاقات کر گئی
دیکھا اسے جو میں نے تو کچھ بھی نہ سن سکا
کیا بات کر رہی تھی، وہ کیا بات کر گئی
نادیدہ منزلوں کے لیے راستوں کی دھول
جب کہکشاں بنی تو کرامات کر گئی