Friday, 26 March 2021

اس کی جدائی کیسے کمالات کر گئی

 اس کی جدائی کیسے کمالات کر گئی

وہ خواب بن کے مجھ سے ملاقات کر گئی

دیکھا اسے جو میں نے تو کچھ بھی نہ سن سکا

کیا بات کر رہی تھی، وہ کیا بات کر گئی

نادیدہ منزلوں کے لیے راستوں کی دھول

جب کہکشاں بنی تو کرامات کر گئی

راتوں سے چھین کر وہ چراغوں کی روشنی

جب صبح ہو گئی، تو اسے رات کر گئی

حد ادب میں یوں تو مِرے سِل گئے تھے ہونٹ

اک خامشی بھی کتنے سوالات کر گئی

پھر اس کے بعد میری سماعت ہی کھو گئی

کانوں میں میرے جانے وہ کیا بات کر گئی

آنکھوں میں کچھ نمی تو ہمیشہ رہی ہے شاد

آنکھوں کی اس نمی کو وہ برسات کر گئی


اشرف شاد

No comments:

Post a Comment