Friday, 26 March 2021

کہیں تو پھینک ہی دیں گے یہ بار سانسوں کا

 کہیں تو پھینک ہی دیں گے یہ بار سانسوں کا

اُٹھائے بوجھ جو پھرتے ہیں یار سانسوں کا

انا، غرور، تکبر، حیات کچھ بھی نہیں

کہ سارا کھیل ہے پیارے یہ چار سانسوں کا

چلو یہ زندگی زندہ دلی سے جیتے ہیں

بڑھے گا اس طرح کچھ تو وقار سانسوں کا

گلابی ہونٹ وہ ہونٹوں پہ رکھ کے کہتی تھی

سدا رہے گا یہ تجھ پر خُمار سانسوں کا

بڑے قریب سے گزری ہے موت چھُو کے تجھے

جو ہو سکے کوئی صدقہ اُتار سانسوں کا

ہوا یہ وجد میں آ کر دِیے سے کہنے لگی

کہ اب تُو سہہ نہیں پائے گا وار سانسوں کا

ہم اس کو زندگی سمجھیں تو کس طرح ارشد

کسی کے ہاتھ میں ہے اختیار سانسوں کا


ارشد محمود

No comments:

Post a Comment