Showing posts with label خالد محمود. Show all posts
Showing posts with label خالد محمود. Show all posts

Wednesday, 14 August 2024

پردیس جانے والے اب لوٹ کے بھی آ جا

 پردیس جانے والے اب لوٹ کے بھی آ جا

کہ بجھ نہ جائے یوں ہی چراغ زندگی کا

برسوں سے میری آنکھیں راہ تک رہی ہیں تیرا

دل رکھ دیا ہے راہ میں، تحفہ ہے یہ ذرا سا

کس کو سناؤں ہجر مسلسل کی یہ کہانی

کچھ آ کے میری سن لے، اپنی مجھے سنا جا

Saturday, 31 December 2022

یہاں سے ہے کہانی رات والی

 یہاں سے ہے کہانی رات والی 

کہ وہ اک رات تھی برسات والی 

کہا تھا جو وہی کر کے دکھایا 

وہ برق بے اماں تھی بات والی 

بڑی لمبی پلاننگ کر رہی ہے

ہماری زندگی لمحات والی

Sunday, 2 October 2022

بڑی لمبی پلاننگ کر رہی ہے

 بڑی لمبی پلاننگ کر رہی ہے

ہماری زندگی لمحات والی

ہمارے دن گئے خالی پڑے ہیں

سبھی الماریاں سوغات والی

نہ اب وہ گھر میں تہذیبی توازن

نہ اب وہ کوٹھری جنات والی

Monday, 4 July 2022

شاید کہ مر گیا مرے اندر کا آدمی

 شاید کہ مر گیا مِرے اندر کا آدمی

آنکھیں دِکھا رہا ہے برابر کا آدمی

سورج ستارے کوہ و سمندر فلک زمیں

سب ایک کر چکا ہے یہ گز بھر کا آدمی

آواز آئی؛ پیچھے پلٹ کر تو دیکھیے

پیچھے پلٹ کے دیکھا تو پتھر کا آدمی

Sunday, 26 June 2022

جو سورج ہو تو ہر منظر اجالا کیوں نہیں کرتے

 جو سورج ہو تو ہر منظر اجالا کیوں نہیں کرتے

یہ آٹھوں پہر کی راتیں، سویرا کیوں نہیں کرتے

تعجب ہے مجھی کو اپنی محفل میں نہیں دیکھا

نہیں دیکھا اگر تم نے تو دیکھا کیوں نہیں کرتے

چراتا ہے وہ پہلے نیند پھر شوخی سے کہتا ہے

یہ شب بھر جاگتے رہتے ہو سویا کیوں نہیں کرتے

Saturday, 25 June 2022

اور آم آم ہی نہیں بھرپور جام ہے

 در مدح آم


شاہ اودھ سے فون پہ کل میں نے بات کی 

اسم گرامی شاہ کا عبدالسلام ہے 

پوچھا کہ لکھنؤ میں ہیں میں نے کہا کہ ہاں 

بولے کہ یہ بتائیے کے دن قیام ہے 

میں نے کہا کہ آج ہی آیا ہوں یا اخی 

یوں تو خلوص شاہ میں کس کو کلام ہے 

Sunday, 14 November 2021

ہر کمند ہوس سے باہر ہے

 ہر کمندِ ہوس سے باہر ہے

طائرِ جاں قفس سے باہر ہے

موت کا ایک دن معین ہے

زندگی دسترس سے باہر ہے

قافلے میں ہم اس مقام پہ ہیں

جو صدائے جرس سے باہر ہے