پردیس جانے والے اب لوٹ کے بھی آ جا
کہ بجھ نہ جائے یوں ہی چراغ زندگی کا
برسوں سے میری آنکھیں راہ تک رہی ہیں تیرا
دل رکھ دیا ہے راہ میں، تحفہ ہے یہ ذرا سا
کس کو سناؤں ہجر مسلسل کی یہ کہانی
کچھ آ کے میری سن لے، اپنی مجھے سنا جا
پردیس جانے والے اب لوٹ کے بھی آ جا
کہ بجھ نہ جائے یوں ہی چراغ زندگی کا
برسوں سے میری آنکھیں راہ تک رہی ہیں تیرا
دل رکھ دیا ہے راہ میں، تحفہ ہے یہ ذرا سا
کس کو سناؤں ہجر مسلسل کی یہ کہانی
کچھ آ کے میری سن لے، اپنی مجھے سنا جا
یہاں سے ہے کہانی رات والی
کہ وہ اک رات تھی برسات والی
کہا تھا جو وہی کر کے دکھایا
وہ برق بے اماں تھی بات والی
بڑی لمبی پلاننگ کر رہی ہے
ہماری زندگی لمحات والی
بڑی لمبی پلاننگ کر رہی ہے
ہماری زندگی لمحات والی
ہمارے دن گئے خالی پڑے ہیں
سبھی الماریاں سوغات والی
نہ اب وہ گھر میں تہذیبی توازن
نہ اب وہ کوٹھری جنات والی
شاید کہ مر گیا مِرے اندر کا آدمی
آنکھیں دِکھا رہا ہے برابر کا آدمی
سورج ستارے کوہ و سمندر فلک زمیں
سب ایک کر چکا ہے یہ گز بھر کا آدمی
آواز آئی؛ پیچھے پلٹ کر تو دیکھیے
پیچھے پلٹ کے دیکھا تو پتھر کا آدمی
جو سورج ہو تو ہر منظر اجالا کیوں نہیں کرتے
یہ آٹھوں پہر کی راتیں، سویرا کیوں نہیں کرتے
تعجب ہے مجھی کو اپنی محفل میں نہیں دیکھا
نہیں دیکھا اگر تم نے تو دیکھا کیوں نہیں کرتے
چراتا ہے وہ پہلے نیند پھر شوخی سے کہتا ہے
یہ شب بھر جاگتے رہتے ہو سویا کیوں نہیں کرتے
در مدح آم
شاہ اودھ سے فون پہ کل میں نے بات کی
اسم گرامی شاہ کا عبدالسلام ہے
پوچھا کہ لکھنؤ میں ہیں میں نے کہا کہ ہاں
بولے کہ یہ بتائیے کے دن قیام ہے
میں نے کہا کہ آج ہی آیا ہوں یا اخی
یوں تو خلوص شاہ میں کس کو کلام ہے
ہر کمندِ ہوس سے باہر ہے
طائرِ جاں قفس سے باہر ہے
موت کا ایک دن معین ہے
زندگی دسترس سے باہر ہے
قافلے میں ہم اس مقام پہ ہیں
جو صدائے جرس سے باہر ہے