Monday, 4 July 2022

شاید کہ مر گیا مرے اندر کا آدمی

 شاید کہ مر گیا مِرے اندر کا آدمی

آنکھیں دِکھا رہا ہے برابر کا آدمی

سورج ستارے کوہ و سمندر فلک زمیں

سب ایک کر چکا ہے یہ گز بھر کا آدمی

آواز آئی؛ پیچھے پلٹ کر تو دیکھیے

پیچھے پلٹ کے دیکھا تو پتھر کا آدمی

اس گھر کا ٹیلی فون ابھی جاگ جائے گا

صاحب کو لے کے چل دیا دفتر کا آدمی

ذرے سے کم بساط پہ سورج نگاہیاں

خالد بھی اپنا ہے تو مقدر کا آدمی


خالد محمود

No comments:

Post a Comment