راس آئی جب تلک مجھ کو نہ شدت دھوپ کی
میرے دل میں برف صورت تھی محبت دھوپ کی
مجھ کو تو صحرا کے سینے پر اتارا ابر نے
کس لیے مجھ کو پڑی تھی پھر ضرورت دھوپ کی
شام کے سائے نے پر کھولے تو ظلمت چھا گئی
بعد مدت کے نظر آئی تھی صورت دھوپ کی
راس آئی جب تلک مجھ کو نہ شدت دھوپ کی
میرے دل میں برف صورت تھی محبت دھوپ کی
مجھ کو تو صحرا کے سینے پر اتارا ابر نے
کس لیے مجھ کو پڑی تھی پھر ضرورت دھوپ کی
شام کے سائے نے پر کھولے تو ظلمت چھا گئی
بعد مدت کے نظر آئی تھی صورت دھوپ کی
پاس وفا کا مجھ کو احساس ہے یہاں تک
دل رو رہا ہے لیکن لب پر نہیں فغاں تک
کتنی روایتوں میں ترمیم ہو رہی ہے
پہنچا ہے جب سے انساں دہلیز آسماں تک
برسوں اٹھائے ہم نے احسان رتجگوں کے
برسوں کے بعد پہنچے ہم منصب فغاں تک
گُم ہو نہ جائے رونقِ بازار کیا کریں
مہنگائی اس قدر ہے خریدار کیا کریں
بچوں سے اپنے اُنس کا اصرار کیا کریں
ہم خود ہیں اپنی ذات سے بیزار کیا کریں
عزت کا پاس کوئی بھی کرتا نہیں ہے اب
شہرِ انا میں صاحبِ دستار کیا کریں
دن سلگتا ہے رات جلتی ہے
اس طرح کائنات جلتی ہے
میری آنکھوں کو دیکھ کر روشن
نگہِ التفات جلتی ہے
کارواں تو گزر گیا کب کا
اب رہِ حادثات جلتی ہے