Showing posts with label ساغر مشہدی. Show all posts
Showing posts with label ساغر مشہدی. Show all posts

Saturday, 24 January 2026

راس آئی جب تلک مجھ کو نہ شدت دھوپ کی

 راس آئی جب تلک مجھ کو نہ شدت دھوپ کی

میرے دل میں برف صورت تھی محبت دھوپ کی

مجھ کو تو صحرا کے سینے پر اتارا ابر نے

کس لیے مجھ کو پڑی تھی پھر ضرورت دھوپ کی

شام کے سائے نے پر کھولے تو ظلمت چھا گئی

بعد مدت کے نظر آئی تھی صورت دھوپ کی

Saturday, 2 August 2025

پاس وفا کا مجھ کو احساس ہے یہاں تک

 پاس وفا کا مجھ کو احساس ہے یہاں تک

دل رو رہا ہے لیکن لب پر نہیں فغاں تک

کتنی روایتوں میں ترمیم ہو رہی ہے

پہنچا ہے جب سے انساں دہلیز آسماں تک

برسوں اٹھائے ہم نے احسان رتجگوں کے

برسوں کے بعد پہنچے ہم منصب فغاں تک

Tuesday, 27 May 2025

گم ہو نہ جائے رونق بازار کیا کریں

 گُم ہو نہ جائے رونقِ بازار کیا کریں

مہنگائی اس قدر ہے خریدار کیا کریں

بچوں سے اپنے اُنس کا اصرار کیا کریں

ہم خود ہیں اپنی ذات سے بیزار کیا کریں

عزت کا پاس کوئی بھی کرتا نہیں ہے اب

شہرِ انا میں صاحبِ دستار کیا کریں

Thursday, 22 April 2021

دن سلگتا ہے رات جلتی ہے

دن سلگتا ہے رات جلتی ہے

اس طرح کائنات جلتی ہے

میری آنکھوں کو دیکھ کر روشن

نگہِ التفات جلتی ہے

کارواں تو گزر گیا کب کا

اب رہِ حادثات جلتی ہے