دن سلگتا ہے رات جلتی ہے
اس طرح کائنات جلتی ہے
میری آنکھوں کو دیکھ کر روشن
نگہِ التفات جلتی ہے
کارواں تو گزر گیا کب کا
اب رہِ حادثات جلتی ہے
ہر نفس میں ہیں آگ کے شعلے
لفظ جلتے ہیں بات جلتی ہے
جب بھی جلتے ہیں دھوپ میں اشجار
چھاؤں بھی ساتھ ساتھ جلتی ہے
نیند آئے تو خواب جلتے ہیں
جاگتا ہوں تو رات جلتی ہے
میں تو ہوں سیلِ تشنگی ساغر
مجھ سے نہرِ فرات جلتی ہے
ساغر مشہدی
No comments:
Post a Comment