Thursday, 22 April 2021

دن سلگتا ہے رات جلتی ہے

دن سلگتا ہے رات جلتی ہے

اس طرح کائنات جلتی ہے

میری آنکھوں کو دیکھ کر روشن

نگہِ التفات جلتی ہے

کارواں تو گزر گیا کب کا

اب رہِ حادثات جلتی ہے

ہر نفس میں ہیں آگ کے شعلے

لفظ جلتے ہیں بات جلتی ہے

جب بھی جلتے ہیں دھوپ میں اشجار

چھاؤں بھی ساتھ ساتھ جلتی ہے

نیند آئے تو خواب جلتے ہیں

جاگتا ہوں تو رات جلتی ہے

میں تو ہوں سیلِ تشنگی ساغر

مجھ سے نہرِ فرات جلتی ہے


ساغر مشہدی

No comments:

Post a Comment