دل کے کاغذ پر لکھا ہے تیرا نام
چین ملتا ہے پڑھوں جب صبح و شام
کیا خبر تھی عشق بھی اک روگ ہے
ورنہ کافر دل کو دے دیتی لگام
زندگی بھر زندگی کب کر سکی
زندگی میرے لیے تھی جیسے لام
دل کے کاغذ پر لکھا ہے تیرا نام
چین ملتا ہے پڑھوں جب صبح و شام
کیا خبر تھی عشق بھی اک روگ ہے
ورنہ کافر دل کو دے دیتی لگام
زندگی بھر زندگی کب کر سکی
زندگی میرے لیے تھی جیسے لام
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
خیال اس بات کا دنیا میں ہر پل جا بجا رکھنا
سجا کر اپنے ہونٹوں پر صدا حمدِ خداﷻ رکھنا
گزرتے ہیں ہمارے دل سے ہو کر غم کے کچھ بادل
ہمیں اپنی پناہوں میں خداونداﷻ! سدا رکھنا
بھلا اپنا بھی سوچو تم کو اس سے روکتا ہے کون
مگر پیشِ نظر کچھ دوسروں کا بھی بھلا رکھنا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
لب پہ ہر دم حمدِ باری اور نبیﷺ کا نام ہو
اے خدا! یہ مشغلہ میرا بھی صبح و شام ہو
اور مجھ سے دُور کوسوں گردشِ ایّام ہو
لب پہ ہر دم حمدِ باری اور نبیﷺ کا نام ہو
ہو گا اُنؐ کے فیض سے حاصل شعورِ زندگی
اُسوۂ آقاﷺ اگر بن جائے نورِ زندگی
منافقت کا میں خنجر تلاش کرتی ہوں
میں اپنی پشت میں نشتر تلاش کرتی ہوں
بہ قدرِ ظرف ہی ملتا ہے جام تشنہ کو
مجھے ہے پیاس، سمندر تلاش کرتی ہوں
بدن پہ آج کی خاتون کے میں حیرت سے
حجاب و شرم کا زیور تلاش کرتی ہوں
کہیں بھی جاؤ مگر دل کے آس پاس رہو
سکوں بن کے رہو، زندگی کی آس رہو
ملے جو وقت تو وعدہ کبھی نبھا دینا
یہ کب کہا ہے ہمیشہ وفا شناس رہو
مٹا دیں فاصلہ جو کچھ بھی ہم میں تم میں ہے
میں چاہتی ہوں مِری دھڑکنوں کی سانس رہو
کاش ایسا ہو وہ ملنے کے بہانے آئے
کچھ سنے میری تو کچھ اپنی سنانے آئے
اس کو دیکھے ہوئے اک عرصہ ہوا ہے مجھ کو
آئے وہ پیاس ہی آنکھوں کی بجھانے آئے
دیکھنا چاہوں گی جی بھر کے اسے کہہ دو ذرا
اس سے کہہ دو کہ مجھے صرف ستانے آئے