Showing posts with label ضیا فتح آبادی. Show all posts
Showing posts with label ضیا فتح آبادی. Show all posts

Friday, 28 April 2023

اسلام کی تعلیم ہے فرمان محمد

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


اسلام کی تعلیم ہے فرمان محمدﷺ

توحید کا نشہ مئے عرفانِ محمدﷺ

ملتی ہے یہاں روح کو برنائی و تسکیں

ہے سایۂ حق، سایۂ دامانِ محمدﷺ

ہر نقشِ قدم اس کا نشانِ سرِ منزل

سب قافلے والے ہیں ثناء خوانِ محمدﷺ

Wednesday, 14 April 2021

فرشتے امتحان بندگی میں ہم سے کم نکلے

 فرشتے امتحانِ بندگی میں ہم سے کم نکلے

مگر اک جرم کی پاداش میں جنت سے ہم نکلے

غمِ‌ دنیا و دیں ان کو نہ فکرِ نیک و بد ان کو

محبت کرنے والے بے نیاز بیش و کم نکلے

غرض کعبہ سے تھی جن کو نہ تھا مطلب کلیسا سے

حدِ دَیر و حرم سے بھی وہ آگے دو قدم نکلے

Thursday, 3 October 2019

یہ کون بزم سے اٹھا کہ بزم ہی نہ رہی

یہ کون بزم سے اٹھا کہ بزم ہی نہ رہی
دلوں میں آگ، چراغوں میں روشنی نہ رہی
بنائی عاقبت اپنی تو پاک بازوں نے
یہ اور بات ہے، دنیا رہی، رہی، نہ رہی
نہ پوچھ رک گئیں کیوں گردشیں زمانے کی
بنے وہ دوست تو دنیا سے دشمنی نہ رہی

جاتی ہیں سبھی راہیں مے خانے کو کیا کہیے

جاتی ہیں سبھی راہیں میخانے کو، کیا کہیۓ
توبہ کے ہوئے ٹکڑے، پیمانے کو کیا کہیۓ
آنا ہے تو جانا ہے، جانا ہے تو آنا ہے
اس آنے کو کیا کہیۓ، اس جانے کو کہیۓ
سو بجلیاں رقصاں ہیں ہر تِنکے کے سینے میں
تعمیرِ خرابی ہے، کاشانے کو کیا کہیۓ 

رہ وفا میں ضرر سود مند ہے یارو

رہِ وفا میں ضرر سُود مند ہے یارو
ہے درد اپنی دوا، زہر قند ہے یارو
گھٹا بڑھا کے بھی دیکھا، مگر نہ بات بنی
غزل کا روپ "روایت پسند" ہے یارو
کُھلا جسے غلطی سے میں چھوڑ آیا تھا
مِرے لیے وہی دروازہ بند ہے یارو

حال دل ان سے کسی عنواں بیاں کر دیکھتے

حالِ دل ان سے کسی عنواں بیاں کر دیکھتے
اپنی رُوداد محبت، داستاں کر دیکھتے
دیکھ لیتے برقِ سوزاں میں ہے کتنا حوصلہ 
ہم بھی شاخ گُل پہ تعمیر آشیاں کر دیکھتے
ضبط اگر دیتا اجازت ہم کو اے پاسِ وفا
جوشِ غم میں جرأتِ آہ و فغاں کر دیکھتے

Wednesday, 1 June 2016

بہکی بہکی ہیں نگاہوں کو نہ جانے کیا ہوا

بہکی بہکی ہیں، نگاہوں کو نہ جانے کیا ہوا 
کھوئی کھوئی سی ہیں، راہوں کو نہ جانے کیا ہوا 
دل کی رگ رگ میں رواں تھا جن سے خون زندگی 
ان تمنّاؤں کو، چاہوں کو نہ جانے کیا ہوا 
نا مکمّل تھا فسانہ دِہر کا جن کے بغیر 
ان گداؤں، بادشاہوں کو نہ جانے کیا ہوا 

نظر سے نظر ملانا کوئی مذاق نہیں

نظر سے نظر ملانا کوئی مذاق نہیں
ملا کے آنکھ چرانا کوئی مذاق نہیں
پہاڑ کاٹ تو سکتا ہے تیشۂ فرہاد
پہاڑ سر پہ اٹھانا کوئی مذاق نہیں
اڑانیں بھرتے رہیں لاکھ طائران خیال
ستارے توڑ کے لانا کوئی مذاق نہیں

لو آج سمندر کے کنارے پہ کھڑا ہوں

لو آج سمندر کے کنارے پہ کھڑا ہوں
غرقاب سفینوں کے سسکنے کی صدا ہوں
اک خاک بہ سر برگ ہوں ٹہنی سے جدا ہوں
جوڑے گا مجھے کون کہ میں ٹوٹ گیا ہوں
اب بھی مجھے اپنائے نہ دنیا تو کروں کیا
ماحول سے پیمانِ وفا باندھ رہا ہوں

Friday, 29 April 2016

خود سری کا بھرم نہ کھل جائے

خود سری کا بھرم نہ کھُل جائے
آدمی کا بھرم نہ کھل جائے
تیرگی کا طلسم ٹوٹ گیا 
روشنی کا بھرم نہ کھل جائے
موت کا راز فاش تو کر دوں 
زندگی کا بھرم نہ کھل جائے

کیا کیا پیام غم کدہ دل سے آئے ہیں

کیا کیا پیام غم کدۂ دل سے آئے ہیں
ہم نامراد حسن کی محفل سے آئے ہیں
زنجیر کھل گئی، درِ زنداں بھی کھل گئے
پیغام کیا بہار کی منزل سے آئے ہیں
ہے لذتِ فراق حیاتِ دلِ حزیں
فردا کی فکر، حال کا غم، اضطرابِ شوق

Wednesday, 20 April 2016

دنیا مری نظر سے تجھے دیکھتی رہی

دنیا مِری نظر سے تجھے دیکھتی رہی 
پھر میرے دیکھنے میں بتا کیا کمی رہی 
کیا غم اگر قرار و سکوں کی کمی رہی 
خوش ہوں کہ کامیاب مِری زندگی رہی 
اک درد تھا جگر میں جو اٹھتا رہا مدام 
اک آگ تھی کہ دل میں برابر لگی رہی 

سمجھ میں چارہ گر کی آئے گا کیا

سمجھ میں چارہ گر کی آئے گا کیا
مِرا غم کیا، مِرے غم کی دوا کیا
فریبِ زیست کھائے جا رہے ہیں
حقیقت آشنا،۔۔۔ نا آشنا کیا
مجھے دھوکا دیا میری نظر نے
کروں تجھ سے شکایت کیا، گِلا کیا

Friday, 15 April 2016

آنکھ میں آنسو لب پر نالے

آنکھ میں آنسو، لب پر نالے
کیسے ہیں یہ چاہنے والے
پرِیتم کا سندیسہ لے کر
گھِر آئے ہیں بادل کالے
ہم کو لے آئے منزل تک
راہ کے کانٹے، پاؤں کے چھالے

رگ احساس میں نشتر ٹوٹا

رگِ احساس میں نشتر ٹوٹا
ہاتھ سے چھوٹ کے ساغر ٹوٹا
ٹوٹنا تھا دل نازک کو نہ پوچھ
کب کہاں کس لیے کیونکر ٹوٹا
سینہ دھرتی کا لرز اٹھا ہے
آسماں سے کوئی اختر ٹوٹا

اک قیامت مری حیات بنی

اک قیامت مِری حیات بنی 
گرمئی بزم کائنات بنی 
آشنائے سکوں تھی لاعلمی 
آگہی فکرِ شش جہات بنی 
موت نے جب فنا کی دی تعلیم 
وہ گھڑی مژدۂ حیات بنی