شجر، زمیں، گھٹا آسمان بولتا ہے
وہ ہونٹ کھولے تو سارا جہان بولتا ہے
سنے گا کون صدائیں دلِ شکستہ کی
تمام شہر تمہاری زبان بولتا ہے
ہمارے بیچ محبت مہک رہی ہے اگر
تو پھر یہ کون ہے جو درمیان بولتا ہے
شجر، زمیں، گھٹا آسمان بولتا ہے
وہ ہونٹ کھولے تو سارا جہان بولتا ہے
سنے گا کون صدائیں دلِ شکستہ کی
تمام شہر تمہاری زبان بولتا ہے
ہمارے بیچ محبت مہک رہی ہے اگر
تو پھر یہ کون ہے جو درمیان بولتا ہے
ستارے بانٹتا ہے وہ ضیا تقسیم کرتا ہے
سنا ہے حبس موسم میں ہوا تقسیم کرتا ہے
اسی کی اپنی بیٹی کی ہتھیلی خشک رہتی ہے
جو بوڑھا دھوپ میں دن بھر حنا تقسیم کرتا ہے
اسے روکو کہ باز آئے سراسر ہے یہ پاگل پن
جو بہروں کے محلوں میں صدا تقسیم کرتا ہے
تاریکیاں الجھتی ہیں وہم وگمان سے
سورج اتارنا ہے مجھے آسمان سے
قسمت نے پھر سے پاؤں میں رستے بچھا دئیے
میں چُور چُور تھا ابھی پچھلی تھکان سے
خوشبو کو اپنی سانس کی ڈوری میں باندھ کر
تھنڈی ہوائیں آتی ہیں تیرے مکان سے
تشنہ کامی کا یہ الزام اتارا جائے
اک سمندر مِرے ہونٹوں سے گزارا جائے
گفتگو کرنی ہے اک شخص کی سیرت سے مجھے
آسمانوں سے فرشتوں کو اتارا جائے
حضرتِ قیس مِرے حق میں گواہی دیں گے
اب سرِ دشت مِرا نام پکارا جائے
تمہاری یاد کی لو تن سے جب اترتی ہے
بڑی خموشی سے آنگن میں شب اترتی ہے
تیرے خیال کی لو تن سے جب اترتی ہے
بڑی خموشی سے آنگن میں شب اترتی ہے
تمہارا ساتھ تسلسل سے چاہیۓ مجھ کو
تھکن زمانوں کی لمحوں میں کب اترتی ہے
اتنا رنگیں جو ہُوا زخم نمائی سے ہُوا
دشت مشہور مِری آبلہ پائی سے ہوا
منصفِ وقت پہ اب حرف نہیں آ سکتا
فیصلہ میرے خلاف اتنی صفائی سے ہوا
قوس در قوس کُھلی مجھ پہ حیا کی سرخی
جسم گلنار ہوا، رنگِ حنائی سے ہوا
اندھی ہوا کی زد پہ ٹھہرتے تھے کب چراغ
اپنے لہو سے میں نے جلائے ہیں سب چراغ
مجھ کو ملی ہے شب سے وراثت میں دشمنی
میں تو ہوں روشنی مِرا نام و نسب چراغ
تیرے خطوط کھول کے بیٹھا ہوں آج پھر
پلکوں پہ جگمگانے لگے ہیں عجب چراغ