Showing posts with label عرفان صادق. Show all posts
Showing posts with label عرفان صادق. Show all posts

Monday, 25 September 2023

شجر زمیں گھٹا آسمان بولتا ہے

 شجر، زمیں، گھٹا آسمان بولتا ہے

وہ ہونٹ کھولے تو سارا جہان بولتا ہے

سنے گا کون صدائیں دلِ شکستہ کی

تمام شہر تمہاری زبان بولتا ہے

ہمارے بیچ محبت مہک رہی ہے اگر

تو پھر یہ کون ہے جو درمیان بولتا ہے

Wednesday, 16 August 2023

ستارے بانٹتا ہے وہ ضیا تقسیم کرتا ہے

 ستارے بانٹتا ہے وہ ضیا تقسیم کرتا ہے

سنا ہے حبس موسم میں ہوا تقسیم کرتا ہے

اسی کی اپنی بیٹی کی ہتھیلی خشک رہتی ہے

جو بوڑھا دھوپ میں دن بھر حنا تقسیم کرتا ہے

اسے روکو کہ باز آئے سراسر ہے یہ پاگل پن

جو بہروں کے محلوں میں صدا تقسیم کرتا ہے

Monday, 2 May 2022

تاریکیاں الجھتی ہیں وہم وگمان سے

 تاریکیاں الجھتی ہیں وہم وگمان سے

سورج اتارنا ہے مجھے آسمان سے

قسمت نے پھر سے پاؤں میں رستے بچھا دئیے

میں چُور چُور تھا ابھی پچھلی تھکان سے

خوشبو کو اپنی سانس کی ڈوری میں باندھ کر

تھنڈی ہوائیں آتی ہیں تیرے مکان سے

Sunday, 1 May 2022

تشنہ کامی کا یہ الزام اتارا جائے

 تشنہ کامی کا یہ الزام اتارا جائے

اک سمندر مِرے ہونٹوں سے گزارا جائے 

گفتگو کرنی ہے اک شخص کی سیرت سے مجھے

آسمانوں سے فرشتوں کو اتارا جائے

حضرتِ قیس مِرے حق میں گواہی دیں گے

اب سرِ دشت مِرا نام پکارا جائے

Saturday, 30 April 2022

تمہاری یاد کی لو تن سے جب اترتی ہے

 تمہاری یاد کی لو تن سے جب اترتی ہے

بڑی خموشی سے آنگن میں شب اترتی ہے

‏تیرے خیال کی لو تن سے جب اترتی ہے

بڑی خموشی سے آنگن میں شب اترتی ہے

تمہارا ساتھ تسلسل سے چاہیۓ مجھ کو

تھکن زمانوں کی لمحوں میں کب اترتی ہے

Thursday, 28 April 2022

اتنا رنگیں جو ہوا زخم نمائی سے ہوا

 اتنا رنگیں جو ہُوا زخم نمائی سے ہُوا

دشت مشہور مِری آبلہ پائی سے ہوا

منصفِ وقت پہ اب حرف نہیں آ سکتا

فیصلہ میرے خلاف اتنی صفائی سے ہوا

قوس در قوس کُھلی مجھ پہ حیا کی سرخی

جسم گلنار ہوا، رنگِ حنائی سے ہوا

Sunday, 23 May 2021

اندھی ہوا کی زد پہ ٹھہرتے تھے کب چراغ

 اندھی ہوا کی زد پہ ٹھہرتے تھے کب چراغ

اپنے لہو سے میں نے جلائے ہیں سب چراغ

مجھ کو ملی ہے شب سے وراثت میں دشمنی

میں تو ہوں روشنی مِرا نام و نسب چراغ

تیرے خطوط کھول کے بیٹھا ہوں آج پھر

پلکوں پہ جگمگانے لگے ہیں عجب چراغ