Monday, 1 June 2026

سفینے جو کنارے آ گئے ہیں

 سفینے جو کِنارے آ گئے ہیں

عزیمت کے سہارے آ گئے ہیں

محبت میں گِرائے جب بھی آنسو

تو دامن میں سِتارے آ گئے ہیں

اندھیرے میں اُجالا ہو رہا ہے

زمیں پر چاند تارے آ گئے ہیں

خواب قربان کیا ہے میں نے

 خواب قُربان کِیا ہے میں نے 

خُود کو وِیران کیا ہے میں نے 

کچھ بھی باقی نہ بچا اپنے لیے

جب بھی مِیزان کیا ہے میں نے 

عشق کی راہ میں  چلتے چلتے

اپنا نُقصان کیا ہے میں نے

ان سے کیا پوچھتے ہو لوگ تو کم جانتے ہیں

 ان سے کیا پوچھتے ہو لوگ تو کم جانتے ہیں

اپنے حالات کو اچھی طرح ہم جانتے ہیں

ہم نے جانا ہے تجھے اپنی محبت کا خُدا

لوگ نادان ہیں پتھر کا صنم جانتے ہیں

تُو نے منہ پھیر لیا راہ میں ہم سے جب کہ

ہم تِری آنکھ کا جُھکنا بھی ستم جانتے ہیں

بلا عنوان افسانہ کہے گا تم بھی سن لینا

 بِلا عُنوان افسانہ کہے گا تم بھی سُن لینا

خِرد کی بات دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا

رموزِ عشق دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا

وہ کعبہ کو صنم خانہ کہے گا تم بھی سن لینا

دلِ غم آشنا جب تنگ آ کر زندگانی سے

شبِ فُرقت کا افسانہ کہے گا تم بھی سن لینا

تم نے پکارا اور ہم چلے آئے

 فلمی گیت


تم نے پکارا اور ہم چلے آئے

دل ہتھیلی پر لے آئے رے

تم نے پکارا اور ہم چلے آئے

جان ہتھیلی پر لے آئے رے

تم نے پکارا ۔۔۔۔