جھوٹ کو سچ تُو مِرے یار بنا سکتا ہے
یہ ہُنر سُن تجھے سردار بنا سکتا ہے
تجھ کو بھی حق ہے سیاست میں چلے جانے کا
تُو اگر ریت کی دیوار بنا سکتا ہے
یہ نیا دورِ ترقی ہے یہاں سِکوں سے
کوئی خرقہ، کوئی دستار بنا سکتا ہے
مختلف روگ کی بس ایک دوا دے دے کر
یہ مسیحا ہمیں بیمار بنا سکتا ہے
زُعم سجدوں کا جبیں پر نہ سجائے پھِریے
یہ تکبّر بھی گُنہ گار بنا سکتا ہے
ہوش والوں میں یہ چرچا بھی بہت عام ہوا
مجھ کو پاگل بھی مِرا یار بنا سکتا ہے
ڈال کر خواب نئے ادھ کُھلی آنکھوں میں یہاں
شعبدہ باز بھی سرکار بنا سکتا ہے
بوجھ ہو تیری انا پر جو سہارا دانش
وہ سہارا تجھے لاچار بنا سکتا ہے
حنیف دانش اندوری
No comments:
Post a Comment