Sunday, 14 June 2026

عجب میکانکی سی زندگانی ہے

 عجب میکانکی سی زندگانی ہے

میں سارا دن مشینوں

اور لوگوں کے مشینی رکھ رکھاؤ سے اُلجھتا ہوں

میں دب کر رہ گیا ہوں فائلوں کے بوجھ کے نیچے

مِری چیخیں حلق میں دب گئی ہیں

میری نظمیں دُور بہتی آبشاروں کے کنارے

گھاس پر بجتے ہوئے

اک وائلن کی دُھن پہ رقصاں ہیں

مجھے آواز دیتی ہیں

مِرے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں

مِرے پیروں میں زنجیریں

میں ان تک جا نہیں سکتا

وہ مجھ تک آ نہیں سکتیں


حسن سیف

No comments:

Post a Comment