عجب میکانکی سی زندگانی ہے
میں سارا دن مشینوں
اور لوگوں کے مشینی رکھ رکھاؤ سے اُلجھتا ہوں
میں دب کر رہ گیا ہوں فائلوں کے بوجھ کے نیچے
مِری چیخیں حلق میں دب گئی ہیں
میری نظمیں دُور بہتی آبشاروں کے کنارے
گھاس پر بجتے ہوئے
اک وائلن کی دُھن پہ رقصاں ہیں
مجھے آواز دیتی ہیں
مِرے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں
مِرے پیروں میں زنجیریں
میں ان تک جا نہیں سکتا
وہ مجھ تک آ نہیں سکتیں
حسن سیف
No comments:
Post a Comment