Showing posts with label شعیب صدیقی. Show all posts
Showing posts with label شعیب صدیقی. Show all posts

Saturday, 24 September 2022

کوئی منصب نہ خزانہ نہ جزا چاہتی ہے

 کوئی منصب نہ خزانہ نہ جزا چاہتی ہے

یہ محبت تو فقط اس کی رضا چاہتی ہے

کچھ سروکار نہیں اس سے کہ کب کون مَرا

"روز اِک تازہ خبر خلقِ خدا چاہتی ہے”

لاکھ بے درد بنی پھرتی ہو دنیا یہ، مگر

مجھ سے ہر حال میں پھر بھی یہ وفا چاہتی ہے

Sunday, 16 January 2022

اب اترنے لگا ہے خدا دوستا

 اب اترنے لگا ہے خدا دوستا

ماں نے دی ہے نا آخر دعا دوستا

اک نئے عشق سے میں بھی دو چار ہوں

تُو بھی تو وہ نہیں اب رہا دوستا

اس طرف جب میں گزروں بلانا مجھے

میں نے سننی ہے تیری صدا دوستا

Tuesday, 4 January 2022

آپ کی یاد بھی نہیں ہے ساتھ

 آپ کی یاد بھی نہیں ہے ساتھ

اس قدر تیز چل رہا ہوں میں

آگہی بھی الاؤ جیسی ہے

دیکھیے خوب جل رہا ہوں میں

جس طرح سے بدل رہے ہیں آپ

اس طرح سے بدل رہا ہوں میں

Monday, 3 January 2022

ہماری زندگانی ہے حقیقت میں کہانی ہے

 ہماری زندگانی ہے،۔ حقیقت میں کہانی ہے

کہانی وہ کہ جس میں کوئی راجہ ہے نہ رانی ہے

تُو اک ناپختہ عادت ہے جو مجھ سے چھوٹ جائے گی

مگر کچھ دن ابھی مجھ کو تمہاری یاد آنی ہے

تمہیں انجام بھی معلوم ہے کچھ ایسے کھیلوں کا

تمہاری دل لگی ہو گی، کسی کی جان جانی ہے

Tuesday, 13 July 2021

بدن کے مقبرے میں ہم اسے دفنا کے بیٹھے ہیں

 اسے دفنا کے بیٹھے ہیں


اسے اب بھول ہی جائیں

جسے ہم چھوڑ کر پیچھے

بہت آگے نکل آئے

بہت آگے نکل آئے

کہ ہم کو دور جانا تھا