کوئی منصب نہ خزانہ نہ جزا چاہتی ہے
یہ محبت تو فقط اس کی رضا چاہتی ہے
کچھ سروکار نہیں اس سے کہ کب کون مَرا
"روز اِک تازہ خبر خلقِ خدا چاہتی ہے”
لاکھ بے درد بنی پھرتی ہو دنیا یہ، مگر
مجھ سے ہر حال میں پھر بھی یہ وفا چاہتی ہے
کوئی منصب نہ خزانہ نہ جزا چاہتی ہے
یہ محبت تو فقط اس کی رضا چاہتی ہے
کچھ سروکار نہیں اس سے کہ کب کون مَرا
"روز اِک تازہ خبر خلقِ خدا چاہتی ہے”
لاکھ بے درد بنی پھرتی ہو دنیا یہ، مگر
مجھ سے ہر حال میں پھر بھی یہ وفا چاہتی ہے
اب اترنے لگا ہے خدا دوستا
ماں نے دی ہے نا آخر دعا دوستا
اک نئے عشق سے میں بھی دو چار ہوں
تُو بھی تو وہ نہیں اب رہا دوستا
اس طرف جب میں گزروں بلانا مجھے
میں نے سننی ہے تیری صدا دوستا
آپ کی یاد بھی نہیں ہے ساتھ
اس قدر تیز چل رہا ہوں میں
آگہی بھی الاؤ جیسی ہے
دیکھیے خوب جل رہا ہوں میں
جس طرح سے بدل رہے ہیں آپ
اس طرح سے بدل رہا ہوں میں
ہماری زندگانی ہے،۔ حقیقت میں کہانی ہے
کہانی وہ کہ جس میں کوئی راجہ ہے نہ رانی ہے
تُو اک ناپختہ عادت ہے جو مجھ سے چھوٹ جائے گی
مگر کچھ دن ابھی مجھ کو تمہاری یاد آنی ہے
تمہیں انجام بھی معلوم ہے کچھ ایسے کھیلوں کا
تمہاری دل لگی ہو گی، کسی کی جان جانی ہے
اسے دفنا کے بیٹھے ہیں
اسے اب بھول ہی جائیں
جسے ہم چھوڑ کر پیچھے
بہت آگے نکل آئے
بہت آگے نکل آئے
کہ ہم کو دور جانا تھا