Sunday, 16 January 2022

اب اترنے لگا ہے خدا دوستا

 اب اترنے لگا ہے خدا دوستا

ماں نے دی ہے نا آخر دعا دوستا

اک نئے عشق سے میں بھی دو چار ہوں

تُو بھی تو وہ نہیں اب رہا دوستا

اس طرف جب میں گزروں بلانا مجھے

میں نے سننی ہے تیری صدا دوستا

یہ اداسی بھی کچھ بے سبب تو نہیں

کچھ تو ہے جو نہیں ہو رہا دوستا

میں ہرا ہوں یا سوکھا ہے تُو ہی سبب

موسموں سے مِرا کیا گِلہ دوستا


شعیب صدیقی

No comments:

Post a Comment