اب اترنے لگا ہے خدا دوستا
ماں نے دی ہے نا آخر دعا دوستا
اک نئے عشق سے میں بھی دو چار ہوں
تُو بھی تو وہ نہیں اب رہا دوستا
اس طرف جب میں گزروں بلانا مجھے
میں نے سننی ہے تیری صدا دوستا
یہ اداسی بھی کچھ بے سبب تو نہیں
کچھ تو ہے جو نہیں ہو رہا دوستا
میں ہرا ہوں یا سوکھا ہے تُو ہی سبب
موسموں سے مِرا کیا گِلہ دوستا
شعیب صدیقی
No comments:
Post a Comment