ہم اِسی سادگی کے مجرم ہیں
آپ کی عاشقی کے مجرم ہیں
آپ جو چاہیں وہ سزا دیجے
ہم تو بس آپ ہی کے مجرم ہیں
ہم سے باتیں فضول کی نہ کر
ہم تِری دوستی کے مجرم ہیں
ہم اسیرانِ گیسوئے جاناں
ان کی جادوگری کے مجرم ہیں
روز پیتے ہیں وہ تو جائز ہے
ہم بس اک گھونٹ پی کے مجرم ہیں
ہم کو کچھ بھی کہے جہاں ہم تو
تیری دیوانگی کے مجرم ہیں
کس کو الزام دوں مِرے اپنے
گھر میں ڈاکہ زنی کے مجرم ہیں
اُلٹی باتیں ہیں،۔ دور ہے اُلٹا
مولوی، مقتدی کے مجرم ہیں
میرے ہمراز تھے جو اے فیصل
وہ مِری مخبری کے مجرم ہیں
فیصل گنوری
No comments:
Post a Comment