Showing posts with label حسنین قاسمی. Show all posts
Showing posts with label حسنین قاسمی. Show all posts

Monday, 10 July 2023

احسان فراموشی ہے نا شکری ہے کیا ہے

 مارخور کی فریاد


احسان فراموشی ہے نا شُکری ہے، کیا ہے؟

کیا تم پہ مِری ذات گراں گزری ہے، کیا ہے؟

میں اپنے تئیں تم پہ کوئی بار ہوں، کیا ہوں؟

میں رنج، مصیبت، کوئی آزار ہوں، کیا ہوں؟

تم لوگوں کے گھر آ کے میں چرتا تو نہیں ہوں

میں اپنی شِکم اس طرح بھرتا تو نہیں ہوں

Friday, 7 July 2023

کتنے چہروں کی رونق ہوا ہو گئی

  سانحۂ شتیال


کتنے چہروں کی رونق ہوا ہو گئی

زیست کتنوں سے یک دم خفا ہو گئی

خواب پہنچے نہیں کتنے تعبیر تک

کتنے چہرے رہے صرف تصویر تک

کتنی ماؤں کے فرزند جاں کھو گئے

کتنی ماؤں کے فرزند ماں کھو گئے

Friday, 23 June 2023

کسی کتاب نہ کاغذ نہ ہی قلم سے ہوا

 کِسی کتاب نہ کاغذ نہ ہی قلم سے ہوا

ہمارے غم کا مداوا تمہارے غم سے ہوا

جہاں میں آئے تو رونے لگے غنیمت سے

یہ کارِ زیست تھا، آغاز ہی جنم سے ہوا

کسی کی دِید نے حالت سنوار کر رکھ دی

ہمارے زخم کا مرہم بھی چشمِ نم سے ہوا

Tuesday, 20 June 2023

خطرہ نہ کر دے جرأت اظہار سوچ لے

 خطرہ نہ کر دے جرأتِ اظہار، سوچ لے

لے سوچ خوب غور سے اک بار، سوچ لے

گاوں میں پھیل جاتی ہے پنکھے کی واردات

بِکتا ہے شہر شہر میں اخبار، سوچ لے

بٹوارہ جائیداد کا ہے، خون کا نہیں

مت کھینچ گھر کے صحن میں دیوار سوچ لے

Sunday, 11 June 2023

سبیل ظلم کو دشوار کرتے ہیں علی والے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 سبیلِ ظلم کو دشوار کرتے ہیں علیؑ والے

ہر اک مرحب کے سر پر وار کرتے ہیں علیؑ والے

زباں سے عشقِ حیدرؑ کے ترانے ہی نہیں گاتے

عمل سے عشق کا اِظہار کرتے ہیں علیؑ والٕے

علیؑ سے پیشتر تینوں علیؑ کے پیشوا گزرے

دل و جاں سے یہی اقرار کرتے ہیں علیؑ والے

وہ جنون و شوق سفر گیا وہ صدائے دل کا اثر گیا

 وہ جُنون و شوقِ سفر گیا وہ صدائے دل کا اثر گیا

وہ جو قیس تھا سو بھی گھر گیا کہ اک اور سال گُزر گیا

کہیں بے دلی کےعذاب میں کہیں رنجشوں کے حساب میں

وہ جو خواب تھا سو بِکھر گیا کہ اک اور سال گزر گیا

جو تھیں منزلیں سو کھڑی رہیں جو تھے راستے سو پڑے رہے

جو متاعِ جاں تھا ہُنر گیا، کہ اک اور سال گزر گیا