زمیں پر اس لیے ہی آ گری ہوں
ستاروں کی طرح ٹوٹی ہوئی ہوں
میں خود کو مارنے پر تُل چکی تھی
میں خود سے بھاگ کر زندہ بچی ہوں
دہائی دے رہا ہے میرا ملبہ
میں تیری آنکھ میں بکھری پڑی ہوں
زمیں پر اس لیے ہی آ گری ہوں
ستاروں کی طرح ٹوٹی ہوئی ہوں
میں خود کو مارنے پر تُل چکی تھی
میں خود سے بھاگ کر زندہ بچی ہوں
دہائی دے رہا ہے میرا ملبہ
میں تیری آنکھ میں بکھری پڑی ہوں
جب بھی آنگن میں تِرے چاند نکلتا ہو گا
میرے بارے میں کبھی تو نے بھی سوچا ہو گا
مشورہ ہے یہ کسی ایک سے مخلص رہنا
جانے والے یہ تمہارے لیے اچھا ہو گا
اس نے پھولوں کی نمائش میں کہاں جانا ہے
مسکراتے ہوئے جس نے تجھے دیکھا ہو گا
دل کے نگر سے خوف کا جالا نہیں گیا
یوں ڈور الجھی خود کو سنبھالا نہیں گیا
گھبرائی آپ، تجھ کو مگر سونپا جو گھڑا
دریا گھڑا یہ تجھ سے سنبھالا نہیں گیا
دل ٹوٹا ایسے کرچیاں ہاتھوں میں رہ گئیں
گھر اس کے بعد مجھ سے سنبھالا نہیں گیا
نوحہ
دل کیسا ضدی بچہ ہے
مانگتا ہے وہ سارے لمحے وہ سارے پل
جن میں میں زندہ تھی
وہ کیا جانے
وہ کیا سمجھے
یہ اک نشاں ہی مجھے راستہ نہیں دیتا
کہ آسماں ہی مجھے راستہ نہیں دیتا
تِرے حصار سے باہر نکل تو سکتی ہوں
مِرا گماں ہی مجھے راستہ نہیں دیتا
میں ساحلوں پہ یہ کشتی اتار سکتی ہوں
یہ بادباں ہی مجھے راستہ نہیں دیتا
محبت کس کو کہتے ہیں عداوت کس کو کہتے ہیں
بچھڑ کے تم سے جانا ہے قیامت کس کو کہتے ہیں
اسی ضد میں ہی اُتری ہوں قیامت خیز لہروں میں
کہ دیکھوں گی محبت میں قیامت کس کو کہتے ہیں
زمانہ پوچھتا کچھ ہے، بتاؤں اور ہی کچھ میں
تمہیں سے میں نے سیکھا ہے وضاحت کس کو کہتے ہیں