نوحہ
دل کیسا ضدی بچہ ہے
مانگتا ہے وہ سارے لمحے وہ سارے پل
جن میں میں زندہ تھی
وہ کیا جانے
وہ کیا سمجھے
وہ سارے لمحے، وہ سارے پل
جس کو سونپ دئیے تھے میں نے
رب گواہ بنا کر مجھ کو نئے سفر پر جو لے چلا تھا
جس کو اپنا امیں بنا کر وجود اپنا سپرد کیا تھا
ایک دن اس نے گھات لگا کر مجھ کو مجھ میں مار دیا تھا
مجھ کو مجھ میں دفنا کر پھر ہر لمحے کا تاوان لیا تھا
دل کیسا ضدی بچہ ہے
وہ کیا جانے
وہ کیا سمجھے
اپنی آگ میں خود ہی جلنا اتنا بھی آسان نہیں
اپنی لاش اٹھا کر چلنا اتنا بھی
آسان نہیں
تہمینہ راؤ
No comments:
Post a Comment