عارفانہ کلام نعتیہ کلام
نبیؐ پر جو ایمان ہیں لانے والے
وہی ہیں خدا کی رضا پانے والے
نگاہِ کرم ہو ہماری طرف بھی
سبھی کی مرادوں کو بر لانے والے
خدایا کرم ہو محمدﷺ کے صدقے
کہ ہم ہیں انہیں کی وفا پانے والے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
نبیؐ پر جو ایمان ہیں لانے والے
وہی ہیں خدا کی رضا پانے والے
نگاہِ کرم ہو ہماری طرف بھی
سبھی کی مرادوں کو بر لانے والے
خدایا کرم ہو محمدﷺ کے صدقے
کہ ہم ہیں انہیں کی وفا پانے والے
یہ کیا صورت ہمارے دیس کی سرکار کر ڈالا
حوالے نفرتوں کے یہ حسیں گلزار کر ڈالا
عجب قانون بنوا کر یہاں بنیادِ مذہب پر
محل آئین کا کیوں آپ نے مسمار کر ڈالا
عدم جمہوریت کی ہر طرف حالات پیدا کر
دیارِ ہند کے ماحول کو بے کار کر ڈالا
عاشقی کوہِ گراں سے کم نہیں
ہر کسی میں عاشقی کا دم نہیں
منزلِ مقصود پانے کے لئے
جان گر جائے تو جائے غم نہیں
رو رہا ہے دل کسی کی یاد میں
آنکھ میری بے سبب تو نم نہیں
وعدوں پہ تیرے کس کو ہو اعتبار کب تک
اچھے دنوں کا آخر ہو انتظار کب تک
ظلم وستم تو کر لے جی بھر کے اے ستمگر
ظالم کے ہاتھ رہتا ہے اقتدار کب تک
مانا کہ ہاتھ میں ہے تیرے ابھی حکومت
لیکن رہے گا تجھ کو یہ اختیار کب تک
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مِری زندگانی ہو ایسے تمام
کہ بن کر رہوں میں نبیؐ کا غلام
پیمبر تو سارے ہوئے با وقار
مگر مصطفیٰؐ کا ہے اعلیٰ مقام
صداقت، وفا اور وحدانیت
محمدؐ نے بخشے ہیں پیارے پیام
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یہ اسمِ محمدؐ تو رحمت کا خزانہ ہے
اِس نورِ مبارک سے روشن یہ زمانہ ہے
واللہ! محمدؐ سے ہیں دونوں جہاں قائم
یہ قول حقیقت ہے، ہر گز نہ فسانہ ہے
اے شاہِ اممؐ سن لیں کچھ میری زبانی بھی
برسوں سے مِرے لب پر جاری جو ترانہ ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
واقعی عشق نبیؐ میں جس کو جینا آ گیا
ہاتھ اس کے دو جہاں کا ہر خزینہ آ گیا
کی محمدؐ کی اطاعت جس کسی نے قلب سے
پاس عقبیٰ کا اسی کے سب دفینہ آ گیا
نور حق سے دو جہاں کو جگمگانے کیلئے
رحمت عالمﷺ کی صورت اک نگینہ آ گیا
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
خدا نے ہر کسی کو ایک نیا انداز بخشا ہے
کسی کو سوز بخشا ہے کسی کو ساز بخشا ہے
عطا کر کے کسی کو رنگ و رونق دلکشی شوخی
جمال و حُسن کا بے مثل ایک اعزاز بخشا ہے
گُناہوں کو رنگ و بُو سے کس قدر شاداب رکھتا ہے
پرندوں کو عجب بال و پر و پرواز بخشا ہے
کبھی تم چین جاتے ہو، کبھی جاپان جاتے ہو
کبھی جاتے ہو امریکہ، کبھی ایران جاتے ہو
خزانہ کر دیا خالی فقط تفریح کی خاطر
غضب انسان ہو لے کر عجب پہچان جاتے ہو
کیا وعدہ، مگر وعدہ کبھی پورا کیا تم نے؟
کہ اچھے دن کے بدلے چھوڑ کر ویران جاتے ہو