Showing posts with label نظمی مارہروی. Show all posts
Showing posts with label نظمی مارہروی. Show all posts

Sunday, 2 June 2024

کان کرامت شان شفاعت صلی اللہ علیہ و سلم

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کانِ کرامت شانِ شفاعت صلی اللہ علیہ و سلم

مظہرِ شانِ دستِ قدرت صلی اللہ علیہ و سلم

رمزِ حیات و کنزِ خلقت صلی اللہ علیہ و سلم

مصدرِ ایماں جانِ عبادت صلی اللہ علیہ و سلم

وہ ہی حریمِ بزم رسالت صلی اللہ علیہ و سلم

وہ ہی نشانِ ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ و سلم

Friday, 28 July 2023

اے صبا لے کو تو آ ان کے بدن کی خوشبو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


اے صبا لے کو تو آ ان کے بدن کی خوشبو

میں بھی سونگھوں ذرا جنت کے چمن کی خوشبو

یوں تو قرآن ہے اللہ تعالیٰ کا کلام

اس سے آتی ہے کسی مُشکِ دہن کی خوشبو

جس پہ اک بار رکھا آقاﷺ نے دستِ شفقت

مرتے دم تک نہ گئی مُشکِ خُتن کی خوشبو

Thursday, 27 July 2023

منتظر دونوں عالم تھے جن کے لیے آئے وہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


منتظر دونوں عالم تھے جن کے لیے آئے وہ اور پھیلی خوشی ہر طرف

ان کے آتے ہی ظلمت کے بادل چھٹے، چھائی توحید کی روشنی ہر طرف

آئے جبریلؑ نُوری سواری لیے لا مکاں کی طرف مصطفیٰﷺ چل دئیے

فرش سے عرش تک نُور ہی نُور تھا دونوں عالم میں تھی سرخوشی ہر طرف

نُور کیسا وہ غار حِرا سے چلا، آج تک جس کی نُورانیت کم نہیں

کتنے سینوں میں وہ نُور محفوظ ہے چھن رہی ہے وہی روشنی ہر طرف

Wednesday, 26 July 2023

چل پڑا ہے قافلہ پھر سے مدینے کی طرف

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


چل پڑا ہے قافلہ پھر سے مدینے کی طرف

دل کا قبلہ کر لیا ہے ان کے روضے کی طرف

حشر میں اذن شفاعت مصطفیٰﷺ کو ہے ملا

تک رہی ہیں امتیں آقاﷺ کے چہرے کی طرف

ناز برداری خدا کرتا ہے یوں محبوبﷺ کی

سمت قبلہ پھیر دی اقصیٰ سے کعبے کی طرف

Tuesday, 25 July 2023

بحر و بر برگ و شجر پانی و پتھر خاموش

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


بحر و بر، برگ و شجر، پانی و پتھر خاموش

روبرو آقاﷺ کے عالم ہیں سراسر خاموش

ابن خطابؓ تو نکلے تھے کہ سر لے آئیں

اک نظر آقاؐ کی، اور ہو گئے تیور خاموش

پیالہ بھر پانی میں انگشت مبارک کا کمال

برکتیں دیکھ کے رہ جائیں سمندر خاموش

Monday, 24 July 2023

اجالا جس کا ہے دوجہاں میں وہ میرے آقا کی روشنی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


اجالا جس کا ہے دوجہاں میں وہ میرے آقا کی روشنی ہے

انہیں کے قدموں کی برکتوں سے یہ زندگی آج زندگی ہے

انہیں کا چرچا ہے آسماں پر زمیں پہ بھی ذکر ہے انہیں کا

ہر ایک گل میں ہر اک کلی میں مہک انھیں کی بسی ہوئی ہے

گناہگاروں کے حق میں رحمت پرہیزگاروں کے حق میں راحت

وہ ذات اقدس کہ جس کی شفقت ہر اک پہ یکساں برس رہی ہے

Sunday, 23 July 2023

جب نام سے آقا کے میں نعرہ لگا اٹھا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


جب نام سے آقاﷺ کے میں نعرہ لگا اٹھا

پل بھر میں مِرے سر سے انبار بلا اٹھا

روضہ کا وہ نقشہ میں لے آیا تصور میں

جب درد مِرے دل میں ہر دن سے سِوا اٹھا

اقرا کی صدا اب بھی باقی ہے فضاؤں میں

برکت لیے قرآں کی وہ غار حِرا اٹھا

Saturday, 22 July 2023

افق شفق میں ہے ظاہر وہی لہو اب تک

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


افق شفق میں ہے ظاہر وہی لہو اب تک

مہک رہی ہے جہاں میں وہ مُشکبو اب تک

حسینؑ نے جو کیا تھا وہ آخری سجدہ

فضا میں گونج رہی ہے صدائے ہُو اب تک

جو خوں بہا تھا گلوئے امامؑ سے اس دن

شفق کے رُوپ میں چمکے ہے وہ لہو اب تک