Showing posts with label افضل سراج. Show all posts
Showing posts with label افضل سراج. Show all posts

Monday, 13 March 2023

کہ میں انسان ہوں افضل جو اشرف ہے جہاں بھر میں

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


میں اکثر بھول جاتا ہوں

کہ میں انسان ہوں افضل

جو اشرف ہے جہاں بھر میں


افضل سراج

Sunday, 22 August 2021

یہ کیسے وسوسوں میں مبتلا ہوں

 یہ کیسے وسوسوں میں مبتلا ہوں

تِرا ہوتے ہوئے تجھ سے جدا ہوں

میں اپنے آپ سے اُلجھا ہوا ہوں

یہ کس نے کہہ دیا تجھ سے خفا ہوں

کوئی تو ہے جو مجھ کو چاہتا ہے

کسی لب پر کھلا حرفِ دُعا ہوں

Saturday, 21 August 2021

ہاتھ کب اپنے لگا میں

 ہاتھ کب اپنے لگا میں

عمر بھر چھپتا پھرا میں

انتظار اپنا رہا ہے

جاگتا شب بھر رہا میں

چھپ نہ پاؤ گے کہیں بھی

چار سو ہوں جا بجا میں

Thursday, 19 August 2021

ادھر ہے آنکھ چوکھٹ پر ادھر ہیں کان آہٹ پر

 اِدھر ہے آنکھ چوکھٹ پر، اُدھر ہیں کان آہٹ پر

لگی رہتی ہے سارا دن، یہ میری جان آہٹ پر

تِرے آنے سے پہلے ہی، تجھے پہچان لیتا ہے

مہکنے خود ہی لگتا ہے، مِرا دالان آہٹ پر

اسے کہنا کسی لمحے، وہاں کی بھی خبر لے لے

جہاں وہ بھول آیا ہے، کسی کے کان آہٹ پر

Tuesday, 17 August 2021

ایسا نہیں کہ خود کو میسر نہیں رہا

 ایسا نہیں کہ خود کو میسر نہیں رہا

تجھ سے بچھڑ کے اپنے برابر نہیں رہا

دیکھی نہ جائے اب تو جنوں کی یہ بے بسی

سر مل گیا تو ہاتھ میں پتھر نہیں رہا

اتنا تو ہو گیا تِری نظروں میں آ گئے

اپنی بلا سے گھر نہیں یا سر نہیں رہا

Monday, 16 August 2021

اس سے بڑھ کر کمال کیا ہوتا

 اس سے بڑھ کر کمال کیا ہوتا

آپ کرتے سوال، کیا ہوتا

وہ سمجھتے ہیں موت کے معنی

صاف کہتے وصال، کیا ہوتا

تیرے غم تک رسائی ہو جاتی

غم نہ ہوتا، مآل کیا ہوتا

کبھی تو میری بھی تشنہ لبی کی بات چلے

 کبھی تو میری بھی تشنہ لبی کی بات چلے

میں زندہ ہوں تو مِری زندگی کی بات چلے

جو میری آنکھ میں آنسو ہیں ان کو رہنے دو

ابھی تو اس کے لبوں کی ہنسی کی بات چلے

کوئی تو ہو کہ جسے کہہ سکیں کہ زندہ ہے

حیات و موت کی اور آدمی کی بات چلے