ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
میں اکثر بھول جاتا ہوں
کہ میں انسان ہوں افضل
جو اشرف ہے جہاں بھر میں
افضل سراج
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
میں اکثر بھول جاتا ہوں
کہ میں انسان ہوں افضل
جو اشرف ہے جہاں بھر میں
افضل سراج
یہ کیسے وسوسوں میں مبتلا ہوں
تِرا ہوتے ہوئے تجھ سے جدا ہوں
میں اپنے آپ سے اُلجھا ہوا ہوں
یہ کس نے کہہ دیا تجھ سے خفا ہوں
کوئی تو ہے جو مجھ کو چاہتا ہے
کسی لب پر کھلا حرفِ دُعا ہوں
ہاتھ کب اپنے لگا میں
عمر بھر چھپتا پھرا میں
انتظار اپنا رہا ہے
جاگتا شب بھر رہا میں
چھپ نہ پاؤ گے کہیں بھی
چار سو ہوں جا بجا میں
اِدھر ہے آنکھ چوکھٹ پر، اُدھر ہیں کان آہٹ پر
لگی رہتی ہے سارا دن، یہ میری جان آہٹ پر
تِرے آنے سے پہلے ہی، تجھے پہچان لیتا ہے
مہکنے خود ہی لگتا ہے، مِرا دالان آہٹ پر
اسے کہنا کسی لمحے، وہاں کی بھی خبر لے لے
جہاں وہ بھول آیا ہے، کسی کے کان آہٹ پر
ایسا نہیں کہ خود کو میسر نہیں رہا
تجھ سے بچھڑ کے اپنے برابر نہیں رہا
دیکھی نہ جائے اب تو جنوں کی یہ بے بسی
سر مل گیا تو ہاتھ میں پتھر نہیں رہا
اتنا تو ہو گیا تِری نظروں میں آ گئے
اپنی بلا سے گھر نہیں یا سر نہیں رہا
اس سے بڑھ کر کمال کیا ہوتا
آپ کرتے سوال، کیا ہوتا
وہ سمجھتے ہیں موت کے معنی
صاف کہتے وصال، کیا ہوتا
تیرے غم تک رسائی ہو جاتی
غم نہ ہوتا، مآل کیا ہوتا
کبھی تو میری بھی تشنہ لبی کی بات چلے
میں زندہ ہوں تو مِری زندگی کی بات چلے
جو میری آنکھ میں آنسو ہیں ان کو رہنے دو
ابھی تو اس کے لبوں کی ہنسی کی بات چلے
کوئی تو ہو کہ جسے کہہ سکیں کہ زندہ ہے
حیات و موت کی اور آدمی کی بات چلے