ہر سِتم لطف ہے، دل خُوگرِ آزار کہاں
سچ کہا تم نے، مجھے غم سے سروکار کہاں
دشت و صحرا کے کچھ آداب ہوا کرتے ہیں
کیوں بھٹکتے ہو، یہاں سایۂ دیوار کہاں
بادۂ شوق سے لبریز ہے ساغر میرا
کیسے اذکار، مجھے فرصتِ افکار کہاں
ہر سِتم لطف ہے، دل خُوگرِ آزار کہاں
سچ کہا تم نے، مجھے غم سے سروکار کہاں
دشت و صحرا کے کچھ آداب ہوا کرتے ہیں
کیوں بھٹکتے ہو، یہاں سایۂ دیوار کہاں
بادۂ شوق سے لبریز ہے ساغر میرا
کیسے اذکار، مجھے فرصتِ افکار کہاں