Showing posts with label غلام ربانی تاباں. Show all posts
Showing posts with label غلام ربانی تاباں. Show all posts

Wednesday, 17 February 2021

ہر ستم لطف ہے دل خوگر آزار کہاں

 ہر سِتم لطف ہے، دل خُوگرِ آزار کہاں

سچ کہا تم نے، مجھے غم سے سروکار کہاں

دشت و صحرا کے کچھ آداب ہوا کرتے ہیں

کیوں بھٹکتے ہو، یہاں سایۂ دیوار کہاں

بادۂ شوق سے لبریز ہے ساغر میرا

کیسے اذکار، مجھے فرصتِ افکار کہاں

Monday, 18 January 2016

ظالم وہ تری پہلی نظر یاد رہے گی

ظالم! وہ تِری پہلی نظر یاد رہے گی
میں بھولنا چاہوں بھی مگر یاد رہے گی
اک قاتل و معصوم ادا نقش ہے دل پر
اک سادہ و پرکار نظر ۔۔ یاد رہے گی
ہونٹوں سے چھلکتا ہوا نازک سا تبسم
تابندگئ سلکِ گہر یاد رہے گی

لمحہ درد کو اعجاز تمنا جانو

لمحۂ درد کو ۔۔۔۔۔ اعجازِ تمنا جانو
ظرف کی بات ہے قاتل کو مسیحا جانو
ایک ہے موجِ صبا، موجِ شرر، موجِ نمو
پھول کھِل جائیں تو ظالم کا سراپا جانو
تم نے کب دیکھے وہ لمحے جو گزرتے ہی نہیں
درد کی رات کسے کہتے ہیں ۔۔ تم کیا جانو

داد بھی فتنہ بیداد بھی قاتل کی طرف

داد بھی، فتنۂ بے داد بھی قاتل کی طرف
بے گناہی کے سوا کون تھا، بسمل کی طرف
منزِلیں راہ میں تھیں ۔۔ نقشِ قدم کی صورت
ہم نے مڑ کر بھی نہ دیکھا کسی منزِل کی طرف
مقتل ناز سے گزرے، تو گزرنے والے 
پھول کچھ پھینک گئے، دامنِ قاتل کی طرف

نارسائی میں فغاں کی آبرو ہے دوستو

نارسائی میں فغاں کی آبرو ہے دوستو
عاشقی پیہم تلاش و جستجو ہے دوستو
آئینہ خانے میں کیا رکھا ہے حیرت کے سوا
جو نظر آتا ہے ۔ عکسِ آرزو ہے دوستو
کچھ نہ کہہ کر بھی بہت کچھ کہہ دیا کرتے ہیں لوگ
خامشی بھی ایک طرزِ گفتگو ہے ۔۔۔ دوستو

Friday, 15 January 2016

گلوں کے ساتھ اجل کے پیام بھی آئے

گلوں کے ساتھ اجل کے پیام بھی آئے
بہار آئی تو گلشن کے دام بھی آئے
ہمِیں نہ کر سکے تجدیدِ آرزو، ورنہ
ہزار بار کسی کے پیام بھی آئے
چلا نہ کام اگرچہ بہ زعمِ راہبری
جنابِ خضرؑ علیہ السلام بھی آئے

سحر کے بعد بھی اکثر سحر نہیں ہوتی

سحر کے بعد بھی اکثر سحر نہیں ہوتی
ہوائے دشت بہت معتبر نہیں ہوتی
یہ افتخار بھی کیا کم ہے زندگی کے لیے
وہ بے ثبات سہی، بے ہنر نہیں ہوتی
سنے گا کون ہماری کہیں تو کس سے کہیں
کہ گردِ راہ دلیلِ سفر نہیں ہوتی

رہ طلب میں کسے آرزوئے منزل ہے

رہِ طلب میں کِسے آرزوئے منزل ہے
شعورِ ہو تو سفر خود سفر کا حاصل ہے
نہ دے سکے گا مِرے عشقِ بے مقام کا ساتھ
فروغِ حسن کہ اب تک اسیرِ محفل ہے
خطا پہ ناز سزا پر غور کیا کیجے
کوئی دلیل نہ منطق عجیب شے دل ہے

ہر ستم لطف ہے دل خوگر آزار کہاں

ہر ستم لطف  ہے، دل خوگرِ آزار کہاں
سچ کہا تم نے مجھے غم سے سروکار کہاں
دشت و صحرا کے کچھ آداب ہوا کرتے ہیں
کیوں بھٹکتے ہو ۔۔۔ یہاں سایۂ دیوار کہاں
بادۂ شوق سے لبریز ہے ساغر میرا
کیسے افکار مجھے فرصتِ افکار کہاں

Thursday, 14 January 2016

سواد غم میں کہیں گوشہ اماں نہ ملا

سوادِ غم میں کہیں گوشۂ اماں نہ ملا
ہم ایسے کھوئے کہ پھر تیرا آستاں نہ ملا
یہ اتفاقِ زمانہ ہے ۔۔ اس کا رونا کیا
ملا ملا کوئی دل کا مزاج واں نہ ملا
غموں کی بزم کہ تنہائیوں کی محفل تھی
ہمیں وہ دشمنِ تمکیں کہاں کہاں نہ ملا

کمال بے خبری کو خبر سمجھتے ہیں

کمالِ بے خبری کو خبر سمجھتے ہیں
تِری نگاہ کو جو معتبر سمجھتے ہیں
فروغِ طور کی یوں تو ہزار تاویلیں
ہم اک چراغِ سرِ رہگزر سمجھتے ہیں
لبِ نگار کو زحمت نہ دو خدا کے لیے
ہم اہلِ شوق زبانِ نظر سمجھتے ہیں

بھر آئی آنکھ تو اکثر کسی کے نام کے ساتھ

بھر آئی آنکھ تو اکثر کسی کے نام کے ساتھ
مگر وہ اشک جو چھلکا کیے ہیں جام کے ساتھ
فروغِ جلوۂ ساقی ۔۔۔ فروغِ جام کے ساتھ
چراغ جلتے ہیں کس حسنِ اہتمام کے ساتھ
مہِ تمام کی باتیں ۔۔۔۔ مہِ تمام کے ساتھ
وہ رات ہو گئی منسوب ان کے نام کے ساتھ

آج کسی نے باتوں باتوں میں جب ان کا نام لیا

آج کسی نے باتوں باتوں میں جب ان کا نام لیا
دل نے جیسے ٹھوکر کھائی درد نے بڑھ کر تھام لیا
گھر سے دامن جھاڑ کے نکلے وحشت کا سامان نہ پوچھ
یعنی گردِ راہ سے ہم نے، رختِ سفر کا کام لیا
دیواروں کے سائے سائے عمر بِتائی دیوانے
مفت میں تن آسانئ غم کا، اپنے پر الزام لیا

Thursday, 1 October 2015

زخم بن جائے کبھی زخم کا مرہم بن جائے

زخم بن جائے کبھی زخم کا مرہم بن جائے
راس آ جائے تو کیا کیا نہ تِرا غم بن جائے
عام حالات میں کچھ بھی نہیں اک قطرۂ آب
آنکھ میں اشک بنے، پھول پہ شبنم بن جائے
کچھ نہ کچھ شوق میں میرے ہی کمی ہے ورنہ
غم کا عالم بھی تِرے حسن کا عالم بن جائے

بہ قدر ظرف انجمن میں سب کو جام مل گیا

بہ قدرِ ظرف انجمن میں سب کو جام مل گیا
نظر اٹھی کہ مے کشی کا اذنِ عام مل گیا
وہ بال و پر کی شورشیں جو زندگی کے ساتھ ہیں
کبھی کبھی انہیں سکوں بھی زیرِ دام مل گیا
ادا ادا میں اک لطیف احتیاط آ گئی
مِری وفا کا غالباً انہیں پیام مل گیا

ہر موڑ کو چراغ سر رہگزر کہو

ہر موڑ کو چراغِ سرِ رہ گزر کہو
بِیتے ہوئے دنوں کو غبارِ سفر کہو
خوں گشتہ آرزو کو کہو شامِ مے کدہ
دل کی جراحتوں کو چمن کی سحر کہو
غم ہائے روزگار کا کچھ احترام بھی
چھلکے جو کوئی جام اسے چشمِ تر کہو

Friday, 25 September 2015

دل وہ کافر کہ سدا عیش کا ساماں مانگے

دل وہ کافر کہ سدا عیش کا ساماں مانگے
زخم پا جائے تو کم بخت نمک داں مانگے
لطف آئے، جو کوئی سوختہ سامانِ بہار
خالق رنگ سے پھر شعلۂ عریاں مانگے
حسرتِ دید، سرِ بام تماشا چاہے
عشقِ بے تاب سرِ طُور چراغاں مانگے

قصور عشق میں ظاہر ہے سب ہمارا تھا

قصور عشق میں ظاہر ہے سب ہمارا تھا
تری نگاہ نے دل کو مگر پکارا تھا
وہ بھی کیا تھے کہ ہر بات میں اشارا تھا
دلوں کا راز نگاہوں سے آشکارا تھا
ہوائے شوق نے رنگِ حیا نکھارا تھا
چمن چمن لب و رخسار کا نظارا تھا

ترے قریب ترے آستاں سے دور رہے

ترے قریب ترے آستاں سے دور رہے
وہیں خیال رہا ہم جہاں سے دور رہے
قریب آئے تو خود جانِ اعتبار بھی تھے
وہی جو مدتوں وہم و گماں سے دور رہے
کسے یہ فکر، کہ انجامِ عشق کیا ہو گا
کسے یہ ہوش کہ راہِ زیاں سے دور رہے

چمن میں کس نے کسی بے نوا کا ساتھ دیا

چمن میں کس نے کسی بے نوا کا ساتھ دیا
وہ بُوئے گُل تھی کہ جس نے صبا کا ساتھ دیا
دیا جو ساتھ تو پھر کس بلا کا ساتھ دیا
شکستِ غم نے ہر اک مُدعا کا ساتھ دیا
فروغِ بادہ نے رنگِ حیا کا ساتھ دیا 
غرض اسی بُتِ کافر ادا کا ساتھ دیا