چاندنی
پیشہ ور طوائف ہے
وادیوں، جنگلوں
پہاڑوں میں
اس کی آوارگی کے چرچے ہیں
نوجواں، مرمریں
چاندنی
پیشہ ور طوائف ہے
وادیوں، جنگلوں
پہاڑوں میں
اس کی آوارگی کے چرچے ہیں
نوجواں، مرمریں
نہیں قبول مجھے آفتاب کی مرضی
مِری زمیں پہ چلے گی جناب کی مرضی
یہ خودکشی نہیں تاثیر ہے محبت کی
خود اپنا خون کرے گر گلاب کی مرضی
اٹھا کے رات کی باہوں میں اس کو ڈال دیا
کسی نے پوچھی نہیں ماہتاب کی مرضی
دل تجھے دیکھ دیکھ ڈولے گا
منہ سے اک لفظ بھی نہ بولے گا
دیکھنا، یہ حقیر پُر تقصیر
سارے اسرار تیرے کھولے گا
چل بسا رات وہ ستارہ بھی
اب یہ کھڑکی کوئی نہ کھولے گا
جو کبھی کہہ سکا نہ کہنے دے
آج لفظوں سے خون بہنے دے
اب کوئی اور بات کر مجھ سے
یہ فراق و وصال رہنے دے
ایک ہی جیسے رات دن کب تک
کوئی تازہ عذاب سہنے دے
اس لڑکیوں کی بھیڑ میں لیلیٰ نہیں کوئی
مجنوں بہت ہیں شہر میں صحرا نہیں کوئی
ہاتھوں میں ہاتھ دے کے یہاں گھومتے ہیں یہ
اب زندگی سے موت کا جھگڑا نہیں کوئی
اب آپ کی نگاہ کسی اور سمت ہے
اچھا ہے دل کے جانے کا خطرہ نہیں کوئی