Showing posts with label احمد فواد. Show all posts
Showing posts with label احمد فواد. Show all posts

Thursday, 20 January 2022

چاندنی پیشہ ور طوائف ہے

 چاندنی

پیشہ ور طوائف ہے

وادیوں، جنگلوں

پہاڑوں میں

اس کی آوارگی کے چرچے ہیں

نوجواں، مرمریں

Saturday, 21 August 2021

نہیں قبول مجھے آفتاب کی مرضی

 نہیں قبول مجھے آفتاب کی مرضی

مِری زمیں پہ چلے گی جناب کی مرضی

یہ خودکشی نہیں تاثیر ہے محبت کی

خود اپنا خون کرے گر گلاب کی مرضی

اٹھا کے رات کی باہوں میں اس کو ڈال دیا

کسی نے پوچھی نہیں ماہتاب کی مرضی

Wednesday, 2 December 2020

دل تجھے دیکھ دیکھ ڈولے گا

 دل تجھے دیکھ دیکھ ڈولے گا

منہ سے اک لفظ بھی نہ بولے گا

دیکھنا، یہ حقیر پُر تقصیر

سارے اسرار تیرے کھولے گا

چل بسا رات وہ ستارہ بھی

اب یہ کھڑکی کوئی نہ کھولے گا

Monday, 23 November 2020

جو کبھی کہہ سکا نہ کہنے دے

 جو کبھی کہہ سکا نہ کہنے دے

آج لفظوں سے خون بہنے دے

اب کوئی اور بات کر مجھ سے

یہ فراق و وصال رہنے دے

ایک ہی جیسے رات دن کب تک

کوئی تازہ عذاب سہنے دے

Sunday, 18 October 2020

اس لڑکیوں کی بھیڑ میں لیلیٰ نہیں کوئی

 اس لڑکیوں کی بھیڑ میں لیلیٰ نہیں کوئی

مجنوں بہت ہیں شہر میں صحرا نہیں کوئی

ہاتھوں میں ہاتھ دے کے یہاں گھومتے ہیں یہ

اب زندگی سے موت کا جھگڑا نہیں کوئی

اب آپ کی نگاہ کسی اور سمت ہے

اچھا ہے دل کے جانے کا خطرہ نہیں کوئی

Wednesday, 2 September 2020

چھپا ملا تھا جو اک خواب کی رداؤں میں

چھپا ملا تھا جو اک خواب کی رداؤں میں
وہ شہر میں نظر آیا کہیں، نہ گاؤں میں
الم نصیبو! یہ دکھ سارے بھول جاؤ گے
بڑا سکوں ہے محبت کی ٹھنڈی چھاؤں میں
کہیں پہ دھوپ میں صورت تِری نظر آئی
جھلک ملی ہے کبھی بھاگتی گھٹاؤں میں

تری نگاہ کا نیلم ترے لبوں کے عقیق

تِری نگاہ کا نیلم، تِرے لبوں کے عقیق
سوادِ غم میں سدا سے مِرے جنوں کے رفیق
زمانہ اس لیے سب تجھ پہ جان دیتا ہے
تِری نگاہ عنایت،۔ تِری زبان خلیق
یہ آسمان کی ہم عصر نیلگوں آنکھیں
نظر ملائیں تو گہرے سمندروں سے عمیق

چاہنے والے خوب جیتے ہیں

چاہنے والے خوب جیتے ہیں
زخم کھاتے ہیں اشک پیتے ہیں
تِری یادیں بھی ساتھ چھوڑ گئیں
ایسے لمحے بھی ہم پہ بیتے ہیں
ایسے لوگوں کی اب ضرورت ہے
وہ دلوں کے جو چاک سیتے ہیں

Tuesday, 1 September 2020

ہمارے عشق کا چرچا رہے گا

یہاں ہر وقت یہ میلہ رہے گا
مگر یہ دل یونہی تنہا رہے گا
جلیں گے جب تلک یہ چاند تارے
ہمارے عشق کا چرچا رہے گا
یہ دل بھی ڈوب جائے گا کسی دن
چڑھا جب حسن کا دریا رہے گا

دل میں پوشیدہ کیا خزینے ہیں

دل میں پوشیدہ کیا خزینے ہیں
آنسو نکلے ہیں یا نگینے ہیں💧
آسماں تیری جھیل میں کب سے
روشنی کے رواں سفینے ہیں
جس پہ مرتے ہیں اس سے ڈرتے ہیں
چاہتوں کے عجب قرینے ہیں

جس کو اپنانے میں اک عرصہ لگا

جس کو اپنانے میں اک عرصہ لگا
اجنبی ہونے میں بس لمحہ لگا
لوگ تو پہلے سے تھے ناآشنا
آج آئینہ بھی بے گانہ لگا
اس لیے دل میں بلایا ہے تجھے
اپنا اپنا سا تیرا چہرہ لگا

Wednesday, 31 October 2012

بدل گیا ہے وہ فرسودہ عاشقی کا نظام

بدل گیا ہے وہ فرسودہ عاشقی کا نظام
چنا ہے مجھ کو نئے عاشقوں نے اپنا اِمام
جہاں سے سیکھ کے آتے ہیں گفتگو دریا
وہیں سے مجھ پہ اتارا گیا یہ درد کلام
کھلا مِلا تھا وہ آنکھوں کا مے کدہ شب بھر
نہ پوچھ کیسے چڑھاۓ ہیں ہم نے جام پہ جام

وہ اس زمین پہ رہتی تھی آسماں کی طرح

وہ اس زمین پہ رہتی تھی آسماں کی طرح
کوئی نہیں ہے یہاں آج میری ماں کی طرح
اب آنسوؤں کی کتابیں کبھی نہ لِکھوں گا
کہ ڈال دی ہے نئی نالہ و فغاں کی طرح
اسی کے دَم سے یہ مٹی کا گھر منور تھا
وہ جس کی قبر چمکتی ہے کہکشاں کی طرح

سوال ایک تھا لیکن ملے جواب بہت

سوال ایک تھا، لیکن مِلے جواب بہت
پڑھی ہے میں نے محبت کی یہ کتاب بہت
گئی بہار تو پھر کون حال پوچھے گا
کرو نہ چاہنے والوں سے اِجتناب بہت
یہ آسمان و زمیں سب تمہیں مبارک ہوں
مرے لیے ہے یہ ٹوٹا ہوا رباب بہت

ان نگاہوں کو ہم آواز کیا ہے میں نے

ان نِگاہوں کو ہم آواز کیا ہے میں نے
تب کہیں گِیت کا آغاز کیا ہے میں نے
ختم ہو تاکہ ستاروں کی اجارہ داری
خاک کو مائلِ پرواز کیا ہے میں نے
آپ کو اِک نئی خِفت سے بچانے کے لیے
چاندنی کو نظر انداز کیا ہے میں نے