Showing posts with label اعجاز آصف. Show all posts
Showing posts with label اعجاز آصف. Show all posts

Sunday, 17 October 2021

نوید یوم بہاراں خزاں سے ظاہر ہو

 نویدِ یومِ بہاراں خزاں سے ظاہر ہو

مثالِ صوتِ پریشاں فغاں سے ظاہر ہو

تجھے گماں ہے اگر خود پہ لفظ روشن کا

ردائے شبنم عجزِ بیاں سے ظاہر ہو

چمک اٹھے مِری آنکھوں میں اشک کی صورت

جو آگ دل میں ہے روشن زباں سے ظاہر ہو

Saturday, 16 October 2021

ہوں میں بھی شعبدہ کوئی دنیا کے سامنے

 ہوں میں بھی شعبدہ کوئی دنیا کے سامنے

حیران ہو رہی ہے مجھے پا کے سامنے

ذرے نے آج اپنی حقیقت کو پا لیا

ذرہ نہ سر نِگوں ہوا صحرا کے سامنے

اُکسا رہی ہے کوئی خلش دیر سے مجھے

رکھ دل سا پھول خارِ تمنا کے سامنے

Friday, 15 October 2021

بے نیاز صوت و محروم بیاں رکھا گیا

 بے نیاز صوت و محروم بیاں رکھا گیا

یعنی حرف شوق کو زیرِ زباں رکھا گیا

خواب میں رکھی گئی بنیادِ شہرِ آرزو

قید میں برفاب کی شعلہ جواں رکھا گیا

رہنمائی دی گئی ہر موجِ تند و تیز کو

پانیوں پر ہر سفینے کو رواں رکھا گیا

Thursday, 29 July 2021

پھولوں سے ہو گی دھول جدا دیکھتے رہو

 پھولوں سے ہو گی دھول جدا دیکھتے رہو

منظر نکھار دے گی ہوا، دیکھتے رہو

لائے گی رنگ لغزشِ پا دیکھتے رہو

منزل بھی دے گی اپنا پتا دیکھتے رہو

ہاں بزم میں کسی کے گریبان گوش تک

پہنچے گا میرا دستِ صدا دیکھتے رہو

Friday, 25 June 2021

صدائے عہد وفا کو زوال کیوں آیا

 صدائے عہدِ وفا کو زوال کیوں آیا

لبِ سکوت پہ حرفِ سوال کیوں آیا

کسے خبر کہ چمن میں خزاں کی آمد پر

غرور‌ شعلۂ گل کو جلال کیوں آیا

بجھا رہا تھا میں اپنے وجود کا خورشید

تِری نگاہ میں رنگِ ملال کیوں آیا