نویدِ یومِ بہاراں خزاں سے ظاہر ہو
مثالِ صوتِ پریشاں فغاں سے ظاہر ہو
تجھے گماں ہے اگر خود پہ لفظ روشن کا
ردائے شبنم عجزِ بیاں سے ظاہر ہو
چمک اٹھے مِری آنکھوں میں اشک کی صورت
جو آگ دل میں ہے روشن زباں سے ظاہر ہو
نویدِ یومِ بہاراں خزاں سے ظاہر ہو
مثالِ صوتِ پریشاں فغاں سے ظاہر ہو
تجھے گماں ہے اگر خود پہ لفظ روشن کا
ردائے شبنم عجزِ بیاں سے ظاہر ہو
چمک اٹھے مِری آنکھوں میں اشک کی صورت
جو آگ دل میں ہے روشن زباں سے ظاہر ہو
ہوں میں بھی شعبدہ کوئی دنیا کے سامنے
حیران ہو رہی ہے مجھے پا کے سامنے
ذرے نے آج اپنی حقیقت کو پا لیا
ذرہ نہ سر نِگوں ہوا صحرا کے سامنے
اُکسا رہی ہے کوئی خلش دیر سے مجھے
رکھ دل سا پھول خارِ تمنا کے سامنے
بے نیاز صوت و محروم بیاں رکھا گیا
یعنی حرف شوق کو زیرِ زباں رکھا گیا
خواب میں رکھی گئی بنیادِ شہرِ آرزو
قید میں برفاب کی شعلہ جواں رکھا گیا
رہنمائی دی گئی ہر موجِ تند و تیز کو
پانیوں پر ہر سفینے کو رواں رکھا گیا
پھولوں سے ہو گی دھول جدا دیکھتے رہو
منظر نکھار دے گی ہوا، دیکھتے رہو
لائے گی رنگ لغزشِ پا دیکھتے رہو
منزل بھی دے گی اپنا پتا دیکھتے رہو
ہاں بزم میں کسی کے گریبان گوش تک
پہنچے گا میرا دستِ صدا دیکھتے رہو
صدائے عہدِ وفا کو زوال کیوں آیا
لبِ سکوت پہ حرفِ سوال کیوں آیا
کسے خبر کہ چمن میں خزاں کی آمد پر
غرور شعلۂ گل کو جلال کیوں آیا
بجھا رہا تھا میں اپنے وجود کا خورشید
تِری نگاہ میں رنگِ ملال کیوں آیا