Showing posts with label صفدر سلیم. Show all posts
Showing posts with label صفدر سلیم. Show all posts

Thursday, 6 August 2020

دل تو ایسا ہے کہ ہر شام سہانی مانگے

یوں تجھے مِری تشنہ دہانی مانگے
جس طرح خواب میں پیاسا کوئی پانی مانگے
میں نے منظوم تو کی تیرے بدن کی خوشبو
اور کیا مجھ سے تِری مست جوانی مانگے
اسکے خط اسکی میں تصویریں بھی واپس کردوں
نامہ بر اس سے کہو، اپنی زبانی مانگے

Wednesday, 5 August 2020

اپنی سانسیں مری سانسوں میں ملا کے رونا

اپنی سانسیں مِری سانسوں میں ملا کے رونا 
جب بھی رونا، مجھے سینے سے لگا کے رونا 
قیدِ "تنہائی" سے نکلا ہوں ابھی "جانِ" سفر 
مجھ سے ملنا، مجھے زلفوں میں چھپا کے رونا
اتنا "سفاک" نہ تھا "گھر" کا یہ منظر پہلے 
تِری یادوں کے چراغوں کو بجھا کے رونا 

رستوں پہ نہ بیٹھو کہ ہوا تنگ کرے گی

رستوں پہ نہ بیٹھو کہ ہوا تنگ کرے گی
بچھڑے ہوئے لوگوں کی صدا تنگ کرے گی
مت ٹوٹ کے چاہو اسے آغازِ سفر میں 
بچھڑے گا تو اک ایک ادا تنگ کرے گی
اتنا بھی اسے یاد نہ کر شامِ غریباں
مہکے گی فضا بوئے حنا تنگ کرے گی

Tuesday, 4 August 2020

وہ جو ملنے کے جتن کرتا تھا جانے کیا کیا

وہ جو ملنے کے جتن کرتا تھا جانے کیا کیا
اب وہ کرتا ہے نہ ملنے کے بہانے کیا کیا
اگرچہ اک عمر ہوئی شہرِ نگاراں چھوڑے
پھر بھی ہوتے رہے مشہور فسانے کیا کیا
اب ملاقات کی فرصت ہی نہیں ملتی ہمیں
ہم نے دیکھے تھے کبھی خواب سہانے کیا کیا

یہ بھی ممکن ہے اسی دشت سے دریا نکلے

یہ بھی ممکن ہے اسی دشت سے دریا نکلے
مِرے سائے سے مِرے جسم کا لاوا نکلے
کس قدر عام سے تھے تیرے خدوخال، مگر
دل میں "اترے" تو وہی حسن سراپا نکلے
گھومتا پھرتا ہوں گلیوں میں طبیعت کے خلاف
کسی دروازے سے شاید تِرا چہرہ نکلے

اس سے پہلے کہ کسی گھاٹ اتارے جاتے

اس سے پہلے کہ کسی گھاٹ اتارے جاتے
ہم ہی بیتاب تھے، ہم مفت میں مارے جاتے
حدِ ادراک سے آگے تھی تِرے قرب کی شام
ڈھونڈنے تجھ کو کہاں چاند ستارے جاتے 
خود ہی آ جاتا ہے تُو اپنی ہوس کی زد میں
ورنہ صدقے تِری چاہت میں اتارے جاتے

Monday, 3 August 2020

محبتوں میں بھی مال و منال مانگتے ہیں

محبتوں میں بھی مال و منال مانگتے ہیں
یہ کیسے لوگ ہیں، اجرِ وصال مانگتے ہیں
سمجھ میں آیا نہیں، ان کا مدعا کیا ہے؟
لکھیں جواب تو پھر وہ سوال مانگتے ہیں
محبتوں کی دکانیں اجڑنے والی ہیں
عروج دیکھ چکے، اب زوال مانگتے ہیں

اس بار اس نے رنج جدائی نہیں دیا

اس بار اس نے رنجِ جدائی نہیں دیا
بچھڑے تو کوئی رنج دکھائی نہیں دیا
وہ کر رہا تھا لطف مگر بے دلی کے ساتھ
دل نے مجھے بھی اذنِ رسائی نہیں دیا
ترکِ تعلقات پہ مائل تھے ہم، مگر
رستہ کسی کو کوئی دکھائی نہیں دیا

Saturday, 1 August 2020

محسوس یہ ہوتا ہے زمانے کے لیے تھے

محسوس یہ ہوتا ہے زمانے کے لیے تھے
ورنہ یہ مراسم تو نبھانے کے لیے تھے
اک عمر کی تحقیق سے یہ راز کھلا ہے
ہم لوگ تو بس یونہی فسانے کے لیے تھے
تم شام ڈھلے کیسے نکل پڑتے ہو گھر سے
یہ گھر تو مِری جان! بسانے کے لیے تھے

یہ شہر چھوڑ دوں تری رسوائی ختم ہو

یہ شہر چھوڑ دوں تِری رسوائی ختم ہو
احباب کی یہ حاشیہ آرائی ختم ہو
وہ کون تھا جو میری انا ساتھ لے گیا
اس پیکرِِ سراب کی رعنائی ختم ہو
سب کچھ گنوا دیا ہے مِرے واسطے تو پھر
میرے قریب آ، مِری تنہائی ختم ہو

مرے خدا یہ محبت کہاں سے آتی ہے

یہ پر اسرار اذیت کہاں سے آتی ہے
مِرے خدا یہ محبت کہاں سے آتی ہے
الگ ہوۓ تھے سمجھ سوچ کر خوشی سے ہم
تو پھر یہ بُوۓ رفاقت کہاں سے آتی ہے
گزر گئی ہے اسی جستجو میں عمرِ عزیز
تِرے لبوں میں حلاوت کہاں سے آتی ہے

اسے اک سلطنت اک راجدھانی چاہیے تھی

اسے اک سلطنت اک راجدھانی چاہیے تھی
محبت میں بھی اس کو حکمرانی چاہیے تھی
تجھے معلوم تھا کہ خودسری ہے شوق اس کا
تجھے اے دل! مِری عزت بچانی چاہیے تھی
بچھڑنے کا وہ پہلے سے تہیہ کر چکا تھا
اسے میری طرف سے بدگمانی چاہیے تھی